ایک مسجد میں سنت پڑھ کر جماعت کے لیے دوسری مسجد چلے جانا - دار الافتاء

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

ایک مسجد میں سنت پڑھ کر جماعت کے لیے دوسری مسجد چلے جانا

فتویٰ نمبر: 2026-045
تاریخِ اشاعت: 16 September 2026
باب: باجماعت نماز و امامت
استفتاء / سوال:
ھماری مسجد میں نماز جمعہ کچھ لیٹ ہوتا ہے بعض نمازی حضرات ھماری مسجد میں آتے ہیں اور وضو بناتے ہیں سنت بھی یہاں پڑھتے ہیں پھر دوسری مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے جاتے ہیں کیا عمل درست ہے
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب حامداً ومصلیا
واضح رہے کہ جو شخص ایسی مسجد میں داخل ہو جس میں اذان دی جا چکی ہو یعنی نماز کا وقت داخل ہو چکا ہو، اس کے لیے یہ مکروہ ہے کہ وہ نماز پڑھے بغیر وہاں سے نکل جائے۔ البتہ اگر وہ امام یا مؤذن ہو اور اس کی غیر حاضری کی وجہ سے دوسری مسجد کی جماعت متاثر ہو تو اس کے لیے نکلنے کی گنجائش ہے۔
اور اگر وہ پہلے ہی کسی مسجد میں نماز پڑھ چکا ہو تو ظہر اور عشاء میں اقامت شروع ہونے سے پہلے نکلنے میں حرج نہیں، لیکن اگر اقامت شروع ہو چکی ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ جماعت میں نفل کی نیت سے شامل ہو جائے۔
البتہ عصر، مغرب اور فجر میں نکلنے کی گنجائش ہے، لیکن اگر وہ رک گیا اور جماعت میں شامل نہ ہوا تو یہ مکروہ ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں
اگر نمازی حضرات زوال سے پہلے (جمعہ کا وقت داخل ہونے سے پہلے) مسجد میں آتے ہیں، اور قرآن کریم کی تلاوت یا نفل نماز پڑھنے کے بعد زوال سے پہلے ہی دوسری مسجد میں چلے جاتے ہیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔
لیکن اگر وہ زوال کے بعد (یعنی جمعہ کا وقت داخل ہونے کے بعد) اس مسجد سے نکلتے ہیں اور کوئی معتبر شرعی عذر بھی موجود نہیں، تو ایسی صورت میں اس مسجد کو چھوڑ کر دوسری مسجد میں جمعہ ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
دخل مسجدا قد أذن فيه يكره له أن يخرج حتى يصلي فإن كان رجلا مؤذنا أو إمام مسجد وتتفرق الجماعة بسبب غيبته لا بأس بالخروج هذا إذا لم يصل فإن كان قد صلى مرة ففي العشاء والظهر لا بأس بالخروج ما لم يأخذ المؤذن في الإقامة فإن أخذ في الإقامة لم يخرج حتى قضاهما تطوعا وفي العصر والمغرب والفجر يخرج فإن مكث ولم يدخل معهم يكره، كذا في محيط السرخسي.
الفتاوی الھندیہ کتاب الصلوۃ باب ادراک الفریضہ ص120ج 1دار الفکر بیروت

(وكره) تحريما للنهي (خروج من لم يصل من مسجد أذن فيه) جرى على الغالب والمراد دخول الوقت أذن فيه أو لا (إلا لمن ينتظم به أمر جماعة أخرى) أو كان الخروج لمسجد حيه ولم يصلوا فيه، أو لأستاذه لدرسه، أو لسماع الوعظ
رد المحتار على الدر المختار، باب إدراك الفريضة ج 2 ص 54 دار الفکر بیروت
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی محمد عباس ایوبی صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء