قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی
الجواب حامداً ومصلیا
واضح رہے کہ جو شخص ایسی مسجد میں داخل ہو جس میں اذان دی جا چکی ہو یعنی نماز کا وقت داخل ہو چکا ہو، اس کے لیے یہ مکروہ ہے کہ وہ نماز پڑھے بغیر وہاں سے نکل جائے۔ البتہ اگر وہ امام یا مؤذن ہو اور اس کی غیر حاضری کی وجہ سے دوسری مسجد کی جماعت متاثر ہو تو اس کے لیے نکلنے کی گنجائش ہے۔
اور اگر وہ پہلے ہی کسی مسجد میں نماز پڑھ چکا ہو تو ظہر اور عشاء میں اقامت شروع ہونے سے پہلے نکلنے میں حرج نہیں، لیکن اگر اقامت شروع ہو چکی ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ جماعت میں نفل کی نیت سے شامل ہو جائے۔
البتہ عصر، مغرب اور فجر میں نکلنے کی گنجائش ہے، لیکن اگر وہ رک گیا اور جماعت میں شامل نہ ہوا تو یہ مکروہ ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں
اگر نمازی حضرات زوال سے پہلے (جمعہ کا وقت داخل ہونے سے پہلے) مسجد میں آتے ہیں، اور قرآن کریم کی تلاوت یا نفل نماز پڑھنے کے بعد زوال سے پہلے ہی دوسری مسجد میں چلے جاتے ہیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔
لیکن اگر وہ زوال کے بعد (یعنی جمعہ کا وقت داخل ہونے کے بعد) اس مسجد سے نکلتے ہیں اور کوئی معتبر شرعی عذر بھی موجود نہیں، تو ایسی صورت میں اس مسجد کو چھوڑ کر دوسری مسجد میں جمعہ ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔