کمپنی میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے نہ دیا جائے؟ |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

کمپنی میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے نہ دیا جائے؟

فتویٰ نمبر: 2026-024
تاریخِ اشاعت: 09 September 2026
باب: باجماعت نماز و امامت
استفتاء / سوال:
مفتی صاحب میرا ایک دوست ھے وہ کہتا ھے کہ میں ایک کمپنی میں کام کرتا ھوں لیکن جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتا ٹاٸم نہیں ملتا اسلٸے وہ کہتاھے کہ میں کام جاری رکھوں یا چھوڑدوں کہتاھے کہ ایسے جگہ میں کام تلاش کرتاھوں کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھ سکوں
مفتی صاحب اپ کیا فرماتے ہیں اس بارے میں کہ کام جاری رکھیں یا چھوڑدیں ؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق

واضح رہے جماعت سے فرض نماز پڑھنا واجب کے قریب ہے جیسا کہ بحرالرٸق میں ہے۔
(‏الجماعة سنة مؤكدة‏)‏ أي قوية تشبه الواجب في القوة والراجح عند أهل المذهب الوجوب ونقله في البدائع عن عامة مشايخنا،،
(کتاب الصلوة باب الامامة)
لہذا کمپنی سے باہر مسجد میں جاکر جمٕاعت سے نماز پڑھنے کی باقاعدہ اجازت لے اگر اجازت دے تو فبھا ونعمت
اگر باہر مسجد میں جاکر جماعت سے نماز پڑھنے کی اجازت نہ دے تو کمپنی کے اندر کچھ افراد مل کر جماعت سے نماز پڑھنے کا انتظام کریں
کمپنی اگر اندر بھی جماعت سے نماز پڑھنے کی اجازت نہ دے تو وقت پر انفرادی طور پر نماز پڑھ لیں اور کوشش کرے کہ ایسی جگہ ملازمت ملے کہ وہاں جماعت سے نماز پڑھنے کا انتظام ہو۔۔۔ اور جیسے دوسری ایسی جگہ کام مل جائے جہاں جماعت سے نماز پڑھنے کا انتظام ہو تو یہ جگہ چھوڑ دے۔

مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی فاروق عبداللہ صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء