نماز میں ایک آیت چھوڑ دینا - دار الافتاء

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

نماز میں ایک آیت چھوڑ دینا

فتویٰ نمبر: 2026-043
تاریخِ اشاعت: 15 September 2026
باب: کتاب الصلاۃ
استفتاء / سوال:
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتیان کرام اگر کسی شخص نے اپنی نماز میں سورۃ القدر کی آیت تنزل الملئکۃ والروح فیھا کے بعد باذن ربھم چھوڑ دی من کل امر سلام کہدیا تو کیا اسکا نماز ہو جائے گا ۔۔؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق

واضح رہے کہ نماز میں اگر قرآت کرتے ہوئے کسی حرف یا لفظ کی زیادتی ہوجائے،
یا کمی ہو جائے کہ جس سے قرآن کی آیت کا ایسے معنی ہو جائے،کہ جس کا اعتقاد کفر ہوتا ہے، اور اس غلطی کو نماز میں درست بھی نہ کیا گیا ہو،تو ایسی صورت میں نماز فاسد ہوجاتی ہے،ایسی نماز کا اعادہ کرنا ضروری ہےلیکن کمی سے معنی میں مذکورہ تبدیلی نہ ہوئی تو نماز درست ہوگی

لہذاصورتِ مسئولہ میں دورانِ نماز غلطی سے سورۃالقدر کی تلاوت کرتے ہوئے ’’باذن ربهم‘‘ کو حذف کر کے
” من كل امر سلام ” پڑھ لیا، تو ایسی صورت میں معنیٰ میں فساد لازم نہیں آتا؛ اس لیے نماز درست ہو گی

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
(ومنها) حذف حرف إن كان الحذف على سبيل الإيجاز والترخيم فإن وجد شرائطه نحو أن قرأ ونادوا يا مال لا تفسد صلاته وإن لم يكن على وجه الإيجاز والترخيم فإن كان لا يغير المعنى لا تفسد صلاته نحو أن يقرأ ولقد جاءهم رسلنا بالبينات بترك التاء من جاءت وإن غير المعنى تفسد صلاته عند عامة المشايخ نحو أن يقرأ فما لهم يؤمنون في لا يؤمنون بترك لا هكذا في المحيط وفي العتابية هو الأصح. "
الفتاوى الهنديه، كتاب الصلاة، الباب الرابع في صفة الصلاة، الفصل الخامس في زلة القارى، ج:1، ص:79،
المطبعه الكبرى الاميريه ببولاق مصر، دار الفكر بيروت
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی محمد عباس ایوبی صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء