بے نظیر اسکیم میں شناختی پر کٹوتی |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

بے نظیر اسکیم میں شناختی پر کٹوتی

فتویٰ نمبر: 2026-035
تاریخِ اشاعت: 11 September 2026
باب: سودی لین دین اور سودی قرضے
استفتاء / سوال:
ایک شخص یہ سکیم لیتا ہے حکومت سے حکومت اس کو ہر شناختى کارڈ پر 12 روپے دیتى ھے یہ جو شخص ھے یہ لوگوں سے 200 روپے کاٹ لیتا ھے اس کى وجہ یہ ہے اس شخص نے لوگوں کیلئے اکیلى جگہ مختص کى ھوتى ھے اور وہ کہتا ہے کہ اس پر ہمارا خرچہ ھوتا ہے یہ حکومت کى اجازت کے بعیر ھوتا هے آیا یہ ان کیلئے جائز ہے یا نہیں۔
الجواب وباللّٰہ التوفیق

واضح رہے بے نظیر اسکیم میں مذکورہ کٹوتی غیر قانونی ہے، حکومت کی طرف سے بھی گزشتہ سال اس کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا گیا تھا۔ لہذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ جب حکومت کی طرف سے اس کے لئے معاوضہ مقرر ہے تو معاہدے کے برخلاف اس کے علاؤہ کٹوتی اس کے لئے جائز نہیں۔

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
شرح المجلۃ میں ہے:
"لایجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي".(1/264، مادۃ: 97، ط؛ رشیدیہ)
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی ارمغان صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی محمد علی چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء