شفعہ پر ٹال مٹول سے کام لینا |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

شفعہ پر ٹال مٹول سے کام لینا

فتویٰ نمبر: 2026-037
تاریخِ اشاعت: 11 September 2026
باب: کتاب البیوع
استفتاء / سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔شفیع نے شفع کیا البتہ خریداری میں تماطل سے کام لے رہاہے اور کہتاہے کہ میں امریکہ سے آکر زمین کی خری خریداری کرونگا۔کیا اس تاخیر کی وجہ سے کیا حق شفعہ ساقط ہوگا یا نہیں اور رائے حل کیا ہے۔؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق

صورت مسٸولہ میں شفیع کا بغیر کسی معقول عذر کے خریداری میں تاخیر کرنا حق شفعہ چھوڑنے کے مترادف ہے یعنی ایک مہینے سے زیادہ تاخیر کرنے سے حق شفعہ باطل ہوگا اور کسی واقعی عذر کی وجہ سے تاخیر ہورہی ہے تو حق شفعہ باطل نہیں ہوگا

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
(بلاعذر بطلت کذا فی المتلقی ) فلو بعذر کمرض وسفراوعدم قاض یری الشفعة بالجوار لاتسقط اتفاقا۔۔۔(یعنی دفعاللضرر) بیان لوجہ الفتوی بقول محمد قال فی شرح المجمع:وفی جامع الخانی الفتوی الیوم علی قول محمد لتغیر احوال الناس فی قصدالاضرار،وبہ ظہر أن إفتا ٸھم بخلاف ظاھرالروایة لتغیرالزمان فلایرجح ظاھرالروایة علیہ وإن کان مصححا أیضا کما مر فی الغصب فی مسألة صبغ الثوب باالسواد ولہ نظاٸر کثیرة بل قد أفتوا بما خالف روایة أٸمتناالثلاثة کالمساٸل المفتی فیھا بقول زفر وکمسألة الاستٸجارعلی التعلیم ونحوہ
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی فاروق عبداللہ صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء