صورت مسٸولہ میں شفیع کا بغیر کسی معقول عذر کے خریداری میں تاخیر کرنا حق شفعہ چھوڑنے کے مترادف ہے یعنی ایک مہینے سے زیادہ تاخیر کرنے سے حق شفعہ باطل ہوگا اور کسی واقعی عذر کی وجہ سے تاخیر ہورہی ہے تو حق شفعہ باطل نہیں ہوگا
📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
(بلاعذر بطلت کذا فی المتلقی ) فلو بعذر کمرض وسفراوعدم قاض یری الشفعة بالجوار لاتسقط اتفاقا۔۔۔(یعنی دفعاللضرر) بیان لوجہ الفتوی بقول محمد قال فی شرح المجمع:وفی جامع الخانی الفتوی الیوم علی قول محمد لتغیر احوال الناس فی قصدالاضرار،وبہ ظہر أن إفتا ٸھم بخلاف ظاھرالروایة لتغیرالزمان فلایرجح ظاھرالروایة علیہ وإن کان مصححا أیضا کما مر فی الغصب فی مسألة صبغ الثوب باالسواد ولہ نظاٸر کثیرة بل قد أفتوا بما خالف روایة أٸمتناالثلاثة کالمساٸل المفتی فیھا بقول زفر وکمسألة الاستٸجارعلی التعلیم ونحوہ