متعین وقت میں ادا کرنے سے قیمت میں کمی کرنا |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

متعین وقت میں ادا کرنے سے قیمت میں کمی کرنا

فتویٰ نمبر: 2026-029
تاریخِ اشاعت: 10 September 2026
باب: بیع فاسد و بیع باطل
استفتاء / سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ایک شخص نے دولاکھ کا سامان خریدا البتہ پیسے نہیں تھے۔بائع کے تقاضے پر مشتری نے اجناس کو واپس کرنے کا کہا تو بائع نے وقت کی تعیین کرکے کہا کہ اتنے وقت میں مجھے پیسے دیدو میں پچاس ہزار کم لونگا۔یعنی ایک لاکھ پچاس ہزار اس پر گواہ بھی ہیں۔اب جبکہ اس نے ادائیگی مطلوبہ وقت میں کردی ہے۔تو اب بائع پورے پیسوں کا تقاضا کررہاہے۔یعنی دولاکھ۔اس کے پیسے شرعا کتنے بنتے ہیں۔وسلام۔۔
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب حامداً ومصلیا:
واضح رہے عقد مکمل ہونے کے بعد(باٸع اور مشتری کے درمیان ایک مجلس میں سودا مکمل ہونے کے بعد)باٸع کا مشتری کو وقت کی تعیین کرکے یہ کہنا کہ اتنے وقت میں دیدیا تو اصل قیمت سے پچاس ہزار کم لونگا یہ جاٸز نہیں ہے سود کے زمرے میں آتا ہے جو سودا کرتے وقت مقرر ہوا ہے وہی قیمت ادا کرنا لازم ہوگا لہذا صورت مسٸولہ میں جو قمیت پہلے مقرر ہوٸی تھی مشتری وہی قیمت ادا کرے گا اور باٸع کی طرف سے دولاکھ روپوں کا تقاضا کرنا جو کہ سودا کرتے وقت مقرر تھے جاٸز ہے

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
"ولو كان له عليه ألف إلى أجل فصالحه منها على خمسمائة درهم ودفعها إليه لم يجز؛ لأن المطلوب أسقط حقه في الأجل في الخمسمائة والطالب بمقابلته أسقط عنه خمسمائة فهو مبادلة الأجل بالدراهم وذلك لايجوز عندنا، وهو قول ابن عمر - رضي الله عنهما -، فإن رجلا سأله عن ذلك فنهاه، ثم سأله، ثم نهاه، ثم سأله فقال: إن هذا يريد أن أطعمه الربا، وهو قول الشعبي - رحمه الله -: وكان إبراهيم النخعي - رحمه الله -: يجوز ذلك، وهو قول زيد بن ثابت - رضي الله عنه - استدلالاً بحديث «بني النضير أن النبي صلى الله عليه وسلم لما أجلاهم، قالوا: إن لنا ديونًا على الناس، فقال: صلوات الله عليه ضعوا وتعجلوا»، وكنا نحمل ذلك على أنه كان قبل نزول حرمة الربا، ثم انتسخ بنزول حكم الربا، فإن مبادلة الأجل بالمال ربًا".
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی فاروق عبداللہ صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء