مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں رہنمائی درکار ہے۔
سوال:
سوئم اور چہلم کے بارے میں مدلل رہنمائی فرمائیں کہ شریعت کی نظر میں ان کی کوئی اہمیت بھی ہے یا نہیں ؟ اگر رسم ہیں تو کن کی رائج کردہ رسمیں ہیں ؟شکریہ
الجواب حامداً و مصلیاً
احادیث مبارکہ سے میت کے گھر والوں کے لیے ایک دن اور ایک رات تک کے کھانے کا انتظام کرنا ثابت ہے ، البتہ قرون ثلاثہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین رحمھم اللہ کے ادوار سے) سوئم اور چہلم کے رسومات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ۔یہ مقامی ہندؤں سے اخذ کردہ رسومات میں سے ہیں ہمارے فقہائے کرام نے ان جیسی رسومات کو بدعت اور حرام قرار دیا ہے۔
الصحیح البخاری، کتاب الصلح، ، ۳/۱۸۴ ، الرقم : ۲۶۹۷ ط: دارطوق النجاۃ عن عائشة رضي الله عنها، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه، فهو ردٌّ» رواه عبد الله بن جعفرٍ المخرمي، وعبد الواحد بن أبي عونٍ، عن سعد بن إبراهيم مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، کتاب الجنائز، ۳/۱۲۴۱ ، الرقم : ۱۷۳۹ ، ط: دارالفکر بیروت وعن عبد الله بن جعفرٍ قال: «لما جاء نعي جعفرٍ قال النبي صلى الله عليه وسلم: " اصنعوا لآل جعفرٍ طعامًا، فقد أتاهم ما يشغلهم» " رواه الترمذي، وأبو داود، وابن ماجه۔ الرد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاۃ،باب الجنائز ،۲/۲۴۰ ،ط: دارالفکر بیروت قوله وباتخاذ طعامٍ لهم) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعامٍ لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله - صلى الله عليه وسلم - «اصنعوا لآل جعفرٍ طعامًا فقد جاءهم ما يشغلهم» حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه برٌّ ومعروفٌ، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون. اهـ. مطلبٌ في كراهة الضيافة من أهل الميت وقال أيضًا: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعةٌ مستقبحةٌ: وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسنادٍ صحيحٍ عن جرير بن عبد الله قال " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ". اهـ. وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع۔
نوید حیات ربانی
مفتی شاکر اللہ صاحب
14460037