السلام علیکم ایک شخص کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا جن کے اوپر حج فرض تھا، ان کے بیٹے نے بھی حج کیا ہوا ہے، کیا ان کا بیٹا قریب کی مسجد کے امام صاحب جو کہ انتہائی غریب ہیں اور جن پہ حج کی فرضیت نہیں ہے کیا ان کو حج بدل کے طور پہ اپنے والد کے حج بدل کے طور پہ امام صاحب کو بھیجا جا سکتا۔
جی ہاں مسجد کے امام کو بھیجنا بہتر ہے کیونکہ حج بدل کرنیوالا بااعتماد دیندار اور حج کے مساٸل سے واقف ہونا چاہیے۔
يَجُوزُ عِنْدَنَا وَسَقَطَ الْحَجُّ عَنْ الْآمِرِ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ وَفِي الْكَرْمَانِيِّ الْأَفْضَلُ أَنْ يَكُونَ عَالِمًا بِطَرِيقِ الْحَجِّ وَأَفْعَالِهِ، وَيَكُونَ حُرًّا عَاقِلًا بَالِغًا، كَذَا فِي غَايَةِ السُّرُوجِيِّ (ھندیة ۱/۲۵۷)
کتبہ فاروق عبداللہ غفرلہ الجواب صحیح مفتی شاکراللہ
1446005