کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان عظام ایک شخص کے پاس مسجد کے پیسے ہیں جو ایک سال کیلے اس شخص کو دیے گیے ہیں اگر یہ شخص ان پیسوں سے کاروبار کرکے منافع میں سے پچاس فیصد مسجد کو دے اور پچاس فیصد خود رکھے۔ زرا رہنمائی کریں
الجواب وبااللہ التوفیق
واضح رہے امانت پیسوں پر کمایا ہوا نفع اسی کو ملے گا جسکی وہ رقم ہے چنانچہ اصل رقم کے ساتھ پورا نفع بھی واپس کرنا ہوگا ۔
صورت مسٸولہ میں مسجد کے پیسے امانت ہوتے ہیں ان پیسوں پر کمایا ہوا منافع بھی مسجد کے اصل رقم کےساتھ ملاکر مسجد کوواپس کرنا ہوگا کیونکہ امانت کو کاروبار میں لگانا جاٸز نہیں ہے ۔
الفتاوى الهندية ۳۳۸/۴ الوديعة لاتودع ولاتعار ولاتؤاجر و لاترهن، وإن فعل شيئًا منها ضمن، كذا في البحر الرائق. فتاوی دارالعلوم دیوبند۱۳/۴۴۹ سوال :اہل محلہ یا متولی مسجد کو مسجد کے مال موقوفہ سے مسجد کی ترقی کےلیے تجارت کرنا جاٸز ہے یا نہیں ؟ الجواب :جاٸز نہیں ہے
کتبہ فاروق عبداللہ غفرلہ ۵نومبر ۲۰۲۴ء الجواب صحیح مفتی شاکراللہ مدظلہ
14460031