کمپنی کی طرف سے اضافی تنخواہ ملے |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

کمپنی کی طرف سے اضافی تنخواہ ملے

فتویٰ نمبر: 2026-025
تاریخِ اشاعت: 09 September 2026
باب: کتاب الاجارۃ
استفتاء / سوال:
مفتی صاحب ! میرا ایک سوال ہے میں نے ایک کمپنی کے ساتھ تقریباً 10 ماہ کام کیا، پھر میں نے کام چھوڑ دیا ، میری ماہانہ تنخواہ 3000 درہم تھی ، آخری مہینے میں میں نے 22 دن کام کیا میری آخری تنخواہ تقریباً ایک ماہ بعد ملی، لیکن کمپنی نے مجھے 2400 درہم دیے۔
میرا سوال یہ ہے کہ 22 دن کے حساب سے میری تنخواہ 2200 درہم بنتی تھی، لیکن کمپنی نے 2400 درہم دیے، یعنی 200 درہم زیادہ دیے۔
کیا یہ 200 درہم میرے لیے جائز ہیں؟ کیا مجھے کمپنی سے پوچھنا چاہیے کہ یہ 200 درہم اضافی کیوں دیے ہیں، یا چونکہ کمپنی نے خود دیے ہیں تو میں انہیں رکھ سکتا ہوں؟
یاد رہے کہ کمپنی کے ساتھ میرا کوئی ایگریمنٹ یا بونس یا اور ٹائم نہیں تھا ۔
دوست کہتے ہیں کہ خاموشی سے رکھ لو کمپنی ایک ایک درہم کا حساب رکھتی ہے اور اتنے اچھے وہ ہیں نہیں کہ آپ کو وہ 200 درہم اضافی دے دیں کسی حساب میں دیے ہوں گے ۔
براہِ کرم اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب حامداًومصلیا
یاد رہے کہ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف اسی مال کا مالک بنے جو اس کا حق ہو بغیر حق کے کسی کا مال لینا جائز نہیں ، بڑی سے بڑی کمپنی یا ادارے میں بھی حساب کتاب میں غلطی ہو سکتی ہے یہ ممکن ہے کہ 22 دن کے بجائے 24 دن کا حساب بھول چوک سے ہو گیا ہو یا کوئی اور تکنیکی غلطی ہوئی ہو ۔
لہذا اگر ممکن ہو تو آپ کے لیے یہ حکم ہے کہ آپ کمپنی سے رابطہ کرکے اس اضافی رقم کی بابت پوچھ لیں ، اگر کمپنی اپنی خوشی سے یا کسی حساب کی رو سے یہ رقم آپ کو دے دے اور کہے کہ یہ آپ کے ہی ہیں، تب آپ کے لیے ان کا لینا اور رکھنا حلال ہوگا ، بلا تحقیق اسے رکھ لینا درست نہیں۔
ہاں اگر اس طرح کی تحقیق ممکن نہ ہو اور نہ کمپنی کی طرف سے اس کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تو یوں سمجھا جائے گا کہ یہ کسی حساب کے تحت آپ کو دیا گیا ہے لہذا اس کا استعمال آپ کے لئے جائز ہوگا ۔
آپ کے دوستوں کا یہ کہنا کہ کمپنی حساب رکھتی ہے، کسی حساب میں دیے ہوں گے محض ظن اور تخمینہ ہے اس طرح کے تخمینے پر عمل کرنا درست نہیں۔

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
فی القرآن الکریم:
وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ(البقرۃ: 188)
وفی صحیح البخاری:
فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَأَعْرَاضَكُمْ، عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا۔
(كتاب الأضاحي/حدیث: 5550)
وفی الفتاوی الھندیہ:
وَمَنْ أَخَذَ مَالَ غَيْرِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَهُوَ غَاصِبٌ، وَيَلْزَمُهُ رَدُّهُ إِنْ كَانَ قَائِمًا."
(جلد 5، صفحہ 119 ، کتاب الغصب ، باب: في أحكام الغصب ، ط: دار الفكر، بیروت)
وفی رد المحتار على الدر المختار:
الأصل أن يد الإنسان على مال غيره يد أمانة حتى يثبت سبب الضمان.
(جلد 5، صفحہ 662 ، کتاب الودیعۃ ، طباعت: دار الفكر، بیروت)
واللہ اعلم باالصواب
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی عنایت اللہ سعید صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء