مشترکہ گھر کو شریک کو کرایہ پر دینا |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

مشترکہ گھر کو شریک کو کرایہ پر دینا

فتویٰ نمبر: 2026-039
تاریخِ اشاعت: 11 September 2026
باب: کتاب الاجارۃ
استفتاء / سوال:
مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ ہم دو دوستوں نے ملکر اسی لاکھ میں ایک مکان لیا ہے جس میں ہم دونوں برابر شریک ہیں میں فی الحال اس مکان میں رہائش پذیر ہوں میں نے اپنے دوست سے کہا ہے کہ اس مکان کی رجسٹری میرے نام کردو جب تک رجسٹری نہ ہو میں آپ کو کرایہ دے دیا کرونگا ۔کیا ایسا کرنا جائز ہے یعنی اس وقت مکان کا کرایہ بیس ہزار ہے میں اس میں رہائش رکھتا ہوں اس کو آدھا کرایہ دیتا ہوں ۔
الجواب وباللّٰہ التوفیق

صورت مسٸولہ میں مشترکہ گھر جوکہ مشاع غیر تقسیم شدہ اثاثے کے طور پر آپ دونوں کی ملکیت ہے آپکا اپنے دوسرے شریک کا حصہ کرایہ پر لینا درست ہے۔

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
اجارۃ المشاع فانما جازت عندہ من الشریک دون غیرہ ، لان المستاجر لایتمکن من استیفاء ما اقتضاہ العقد الا بالمھایاۃ ، و ھذا المعنی لا یوجد فی الشریک۔ افادہ الاتقانی : ای : لان الشریک ینتفع بہ بلا مھایاۃ فی المدۃ کلھا بحکم العقد وبالملک بخلاف غیرہ ۔
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی فاروق عبداللہ صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء