الجواب حامداومصلیا:
صورت مسٸولہ میں میت کےترکہ سےحقوق متقدمہ (تجہیزوتکفین،قرض،اوروصیت) اداکرنےکےبعدبقیہ مال کی تقسیم اسطرح ھوگی
کل ترکہ کو چار حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ بیوہ کو بقیہ تین حصے باپ کو ملیں گے، بھائیوں اور بہن کو ترکہ میں سے کچھ نہیں ملے گا۔
نوٹ۔والدکی موجودگی کی وجہ سے بہن بہاٸی محروم ھوجاٸیں گے۔
صورت تقسیم:
میت۔۔۔۔۔۔۔۔احمد۔۔۔۔۔۔4………
بیوہ۔۔۔۔۔باپ۔۔۔۔حقیقی۔ ۔علاتی
| | [بہاٸی] [بہاٸی]
۔[1/4] [بقیہ] [محروم] [محروم]
ٰ۔بہن
[محروم]
📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
وَلِلزَّوْجَةِ الرُّبُعُ عِنْدَ عَدَمِهِمَا وَالثُّمُنُ مَعَ أَحَدِهِمَا،
(الفتاوی الھندیہ:٦/ ٤٥٠دارالفکر)
وَالتَّعْصِيبُ الْمَحْضُ وَذَلِكَ أَنْ لَا يُخَلَّفَ غَيْرُهُ فَلَهُ جَمِيعُ الْمَالِ بِالْعُصُوبَةِ وَكَذَا إذَا اجْتَمَعَ مَعَ ذِي فَرْضٍ لَيْسَ بِوَلَدٍ وَلَا وَلَدِ ابْنٍ كَزَوْجٍ وَأُمٍّ وَجَدَّةٍ فَيَأْخُذُ ذُو الْفَرْضِ فَرْضَهُ وَالْبَاقِي لِلْأَبِ بِالْعُصُوبَةِ،
(الفتاوی الھندیہ:٦/ ٤٤٨دارالفکر)
وَالْمَحْجُوبُ يَحْجُبُ كَالْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ يَحْجُبُهُمُ الْأَبُ،
(الاختيار لتعليل المختار:٥/ ٩٥
دارالكتب)