والد کی موجودگی میں بھائیوں کا حصہ |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

والد کی موجودگی میں بھائیوں کا حصہ

فتویٰ نمبر: 2026-031
تاریخِ اشاعت: 11 September 2026
باب: تقسیمِ ترکہ اور ورثاء کے حصص
استفتاء / سوال:
احمد کا انتقال ہوا، اولاد نہیں ہے، بیوہ، باپ ، ایک حقیقی بھائی، ایک علاتی بھائی، ایک بہن موجود ہے، میراث کی تقسیم کس طرح ہوگی؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب حامداومصلیا:
صورت مسٸولہ میں میت کےترکہ سےحقوق متقدمہ (تجہیزوتکفین،قرض،اوروصیت) اداکرنےکےبعدبقیہ مال کی تقسیم اسطرح ھوگی
کل ترکہ کو چار حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ بیوہ کو بقیہ تین حصے باپ کو ملیں گے، بھائیوں اور بہن کو ترکہ میں سے کچھ نہیں ملے گا۔
نوٹ۔والدکی موجودگی کی وجہ سے بہن بہاٸی محروم ھوجاٸیں گے۔
صورت تقسیم:
میت۔۔۔۔۔۔۔۔احمد۔۔۔۔۔۔4………
بیوہ۔۔۔۔۔باپ۔۔۔۔حقیقی۔ ۔علاتی
| | [بہاٸی] [بہاٸی]
۔[1/4] [بقیہ] [محروم] [محروم]
ٰ۔بہن
[محروم]

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
وَلِلزَّوْجَةِ الرُّبُعُ عِنْدَ عَدَمِهِمَا وَالثُّمُنُ مَعَ أَحَدِهِمَا،
(الفتاوی الھندیہ:٦/ ٤٥٠دارالفکر)

وَالتَّعْصِيبُ الْمَحْضُ وَذَلِكَ أَنْ لَا يُخَلَّفَ غَيْرُهُ فَلَهُ جَمِيعُ الْمَالِ بِالْعُصُوبَةِ وَكَذَا إذَا اجْتَمَعَ مَعَ ذِي فَرْضٍ لَيْسَ بِوَلَدٍ وَلَا وَلَدِ ابْنٍ كَزَوْجٍ وَأُمٍّ وَجَدَّةٍ فَيَأْخُذُ ذُو الْفَرْضِ فَرْضَهُ وَالْبَاقِي لِلْأَبِ بِالْعُصُوبَةِ،
(الفتاوی الھندیہ:٦/ ٤٤٨دارالفکر)

وَالْمَحْجُوبُ يَحْجُبُ كَالْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ يَحْجُبُهُمُ الْأَبُ،
(الاختيار لتعليل المختار:٥/ ٩٥
دارالكتب)
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
اعجاز الحق درجہ تخصص
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی محمد علی چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء