میراث کی تقسیم |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

میراث کی تقسیم

فتویٰ نمبر: 2026-001
تاریخِ اشاعت: 02 September 2026
باب: تقسیمِ ترکہ اور ورثاء کے حصص
استفتاء / سوال:
اسلام علیکمُ ورحمتہ اللہ و برکاتہ —

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ ایک شخص نے ترکہ میں ایک کروڑ تین لاکھ روپے چھوڑا ہے —

ورثاء میں اس کے تین بھائی ، دو بہنیں اور ایک ماں زندہ ہے - ان سب میں یہ رقم کس طرح سے تقسیم ہوگی؟

جزاک اللہ
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب حامدا ومصلیا

صورت مسٸولہ میں میت کے حقوق متقدمہ کی ادایگی کےبعد بقیہ میراث میں سے

ماں کو67 . 1716666

ہر بھائی کو 33. 2145833

اور ہر بہن کو67.  1072916 روپے ملیں گے ۔۔فقط واللہ اعلم

مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی فاروق عبداللہ صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء