میت کے حقوق متقدمہ کی اداٸیگی کے بعد بقایا میراث کو 21 حصوں میں تقسیم کرکے ماں کو 21میں سے3، حقیقی بہنوں کو ث 21میں سے 12 ہر بہن کو چار اور اخیافی بہن بھاٸیوں کو 21 میں سے 6 اور ہر ایک کو دو دو یعنی اخیافی بہن بھاٸیوں کو برابر برابر ملے گا ۔
علاتی بہن بھاٸیوں کو کچھ نہیں ملے گا علاتی (باپ شریک ) بھائی چوں کہ عصبہ ہے اس لیے ذوی الفروض کو ان کا حصہ دینے کے بعد کچھ بچا نہیں اس لیے ان کو کچھ نہیں ملے گا۔
تو چھ چکورم زمین کو 21 حصوں میں تقسیم کرکے ماں کو 3 حقیقی بہنوں کو 21میں سے12 پھر ہر بہن کو 12میں سے4 اوراخیافی بہن بھاٸیوں کو 21میں سے 6 اور ہر ایک کو 6 میں سے 2،2 حصے ملینگے ۔
📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
السراجی ۸۔۔۔۱۳ وامالاولادالام فاحوال ثلث السدس للواحد والثلث للاثنین فصاعدا ذکورھم واناثھم فی القسمة والاستحقاق سواء۔۔۔واماللاخوات لاب وام فاحوال خمس النصف للواحدة والثلثان للاثنتین فصاعدة۔۔۔۔واماللام فاحوال ثلث السدس مع الولد ۔۔۔اومع الاثنین من الاخوة ۔۔الخ السراجی ۲۲/۲۱ والأخوات لأب کالأخوات لأب وأم ، ولھن أحوال سبع: النصف للواحدۃ ، والثلثان للاثنین فصاعدۃً عند عدم الأخوات لأب وأم ، ولھن السدس مع الأخت لأب وأم ؛ تکملۃ للثلثین،ولا یرثن مع الأختین لأب و أم۔