میراث کی تقسیم |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

میراث کی تقسیم

فتویٰ نمبر: 2026-030
تاریخِ اشاعت: 02 September 2026
باب: تقسیمِ ترکہ اور ورثاء کے حصص
استفتاء / سوال:
زاد کا انتقال ہوچکاہے ورثاء میں ایک ماں ،چار علاتی (باپ شریک)بھاٸی ایک علاتی بہن تین حقیقی بہنیں اور دو اخیافی بھاٸی ایک اخیافی بہن  ہیں اہل سنت والجماعت کے مذہب کے مطابق میراث کی تقسیم کیسے ہوگی ؟

نوٹ میراث میں چھ چکورم زمین ہے ۔

المستفتٸ غلام مصطفی ایڈوکیٹ اپرچترال
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب حامدا ومصلیا

صورت مسٸولہ میں میت کے حقوق متقدمہ کی ادایگی کےبعد بقیہ میراث میں سے

ماں کو67 . 1716666

ہر بھائی کو 33. 2145833

اور ہر بہن کو67.  1072916 روپے ملیں گے ۔۔فقط واللہ اعلم

مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی فاروق عبداللہ صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء