مسجد کے پیسوں سے کسی کو قرض دینا - دار الافتاء

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

مسجد کے پیسوں سے کسی کو قرض دینا

فتویٰ نمبر: 2026-046
تاریخِ اشاعت: 16 September 2026
باب: قرض، رہن، اور کفالت
استفتاء / سوال:
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ میں مسجد کی کمیٹی کا حصہ ہوں مسجد کے فنڈ میرے پاس رہتے ہیں کیا میں مسجد کے ان پیسوں سے کسی کو قرضہ دے سکتا ہوں؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب حامداً ومصلیا ومسلما
واضح رہے کہ مسجد کی کمیٹی کے رکن یا انتظامیہ یا متولی کے لیے جائز نہیں کہ وہ وقف یا مسجد کا مال اپنے اہل خانہ کے علاوہ کسی کے پاس بطور امانت رکھے، اور نہ یہ کہ وہ اسے قرض دے۔ اگر اس نے قرض دیا تو وہ ضامن ہوگا، اور قرض لینے والا بھی ضامن ہوگا۔”
لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر مسجد کمیٹی کا رکن یا متولی مسجد کے فنڈ سے کسی کو قرض دیتا ہے تو یہ غیر شرعی تصرف ہے، اور ایسی صورت میں اگر وہ رقم ضائع ہو جائے یا واپس نہ ہو تو متولی یا کمیٹی ممبر اس رقم کا ضامن ہوگا، یعنی اپنی جیب سے مسجد کو ادا کرنا لازم ہوگا۔

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ
(سورۃ النساء، آیت 58)

أن القيم ليس له إقراض مال المسجد قال في جامع الفصولين ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن وكذا المستقرض
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري
کتاب الوقف تصرفات الناظر في الوقف ص259
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی محمد عباس ایوبی صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء