السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ میں مسجد کی کمیٹی کا حصہ ہوں مسجد کے فنڈ میرے پاس رہتے ہیں کیا میں مسجد کے ان پیسوں سے کسی کو قرضہ دے سکتا ہوں؟
قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی
الجواب حامداً ومصلیا ومسلما
واضح رہے کہ مسجد کی کمیٹی کے رکن یا انتظامیہ یا متولی کے لیے جائز نہیں کہ وہ وقف یا مسجد کا مال اپنے اہل خانہ کے علاوہ کسی کے پاس بطور امانت رکھے، اور نہ یہ کہ وہ اسے قرض دے۔ اگر اس نے قرض دیا تو وہ ضامن ہوگا، اور قرض لینے والا بھی ضامن ہوگا۔”
لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر مسجد کمیٹی کا رکن یا متولی مسجد کے فنڈ سے کسی کو قرض دیتا ہے تو یہ غیر شرعی تصرف ہے، اور ایسی صورت میں اگر وہ رقم ضائع ہو جائے یا واپس نہ ہو تو متولی یا کمیٹی ممبر اس رقم کا ضامن ہوگا، یعنی اپنی جیب سے مسجد کو ادا کرنا لازم ہوگا۔