مسجد کے پیسے کو کاروبار میں لگانا |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

مسجد کے پیسے کو کاروبار میں لگانا

فتویٰ نمبر: 2026-017
تاریخِ اشاعت: 03 September 2026
باب: اوقاف و مدارس کے مسائل
استفتاء / سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان عظام ایک شخص کے پاس مسجد کے پیسے ہیں جو ایک سال کیلے اس شخص کو دیے گیے ہیں اگر یہ شخص ان پیسوں سے کاروبار کرکے منافع میں سے پچاس فیصد مسجد کو دے اور پچاس فیصد خود رکھے۔ زرا رہنمائی کریں
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب وبااللہ التوفیق
واضح رہے امانت پیسوں پر کمایا ہوا نفع اسی کو ملے گا جسکی وہ رقم ہے چنانچہ اصل رقم کے ساتھ پورا نفع بھی واپس کرنا ہوگا ۔
صورت مسٸولہ میں مسجد کے پیسے امانت ہوتے ہیں ان پیسوں پر کمایا ہوا منافع بھی مسجد کے اصل رقم کےساتھ ملاکر مسجد کوواپس کرنا ہوگا کیونکہ امانت کو کاروبار میں لگانا جاٸز نہیں ہے

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
الفتاوى الهندية ۳۳۸/۴ الوديعة لاتودع ولاتعار ولاتؤاجر و لاترهن، وإن فعل شيئًا منها ضمن، كذا في البحر الرائق. فتاوی دارالعلوم دیوبند۱۳/۴۴۹ سوال :اہل محلہ یا متولی مسجد کو مسجد کے مال موقوفہ سے مسجد کی ترقی کےلیے تجارت کرنا جاٸز ہے یا نہیں ؟ الجواب :جاٸز نہیں ہے
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی فاروق عبداللہ صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء