آٹا ، دودھ ، چینی، پیاز، وغیرہ اُدھار لینا |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

آٹا ، دودھ ، چینی، پیاز، وغیرہ اُدھار لینا

فتویٰ نمبر: 2026-016
تاریخِ اشاعت: 03 September 2026
باب: قرض کے احکام و ادھار لین دین
استفتاء / سوال:
گاؤں میں عام طور پر ایک دوسرے سے ادھار چیزیں لینے دینے کا رواج ہو تا ہے جیسے دودھ کے بدلے دودھ، چینی،پیاز، ٹماٹر وغیرہ کیا یہ معاملہ جائز ہے؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق

صورت مسئولہ میں ایک دوسرے سے ادھار چیزیں لینا دینا یہ قرض کا معاملہ  ہے، کمی یا زیادتی کی شرط کے بغیر ایسا معاملہ کرنا جائز ہے کمی بیشی کی شرط لگانا جائز نہیں۔

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
فتاویٰ عالمگیری:(3/201) "ويجوز القرض فيما هو من ذوات الأمثال كالمكيل والموزون، والعددي المتقارب كالبيض، ولايجوز فيما ليس من ذوات الأمثال، كالحيوان والثياب، والعدديات المتفاوتة". فقط واللہ اعلم
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی محمد شاہد عمران صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء