مدرسہ کی ضروریات میں اپنی زکوۃ خرچ کرنا - دار الافتاء

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

مدرسہ کی ضروریات میں اپنی زکوۃ خرچ کرنا

فتویٰ نمبر: 2026-044
تاریخِ اشاعت: 15 September 2026
باب: کتاب الزکاۃ و الصدقات
استفتاء / سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام شرع متین میں اس مسئلے کے بارے میں
کہ میں نے بنات کا ایک غیر رہائشی مدرسہ بنایا ہے اور دو اساتذہ اور ایک استانی رکھی ہے ، اب مدرسے کے جملہ اخراجات جن میں بجلی گیس بلز اور مدرسے کے اندر جتنی بھی ضروریات ہوں اور اس کے علاوہ اساتذہ اور استانی کی تنخواہ وہ اپنی جیب سے ادا کرتا ہوں زکوۃ ادا کرنے کے لیے باہر سے کسی سے کوئی فنڈ نہیں لیتا ، میں اپنی زکوۃ ادا کرنے کے لیے یہ ساری چیزیں خود ہی ادا کر رہا ہوں کیا اس طریقے سے میری زکوۃ ادا ہو جائے گی؟ برائے کرم شریعت کے مطابق جواب عنایت فرمائیں
المستفتى
کامر شہزاد پراچہ
ڈھوک پراچہ ترنول اسلام اباد
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب حامداً ومصلیا ومسلما
واضح رہے کہ زکوٰۃ کی رقم سے بجلی، گیس کے بلز، مدرسے کے سامانِ ضروریات اور اساتذہ و استانی کی تنخواہیں براہِ راست ادا کرنا جائز نہیں، کیونکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک شرط ہے۔
تملیک کا مطلب یہ ہے کہ کسی مستحقِ زکوٰۃ کو زکوٰۃ کی رقم کا مالک اور مختار بنا دیا جائے۔ صورتِ مسئولہ میں ان اخراجات کو براہِ راست ادا کرنے میں چونکہ تملیک نہیں پائی جاتی (خواہ مدرسہ یا اس کے طلبہ ضرورت مند ہی کیوں نہ ہوں)، لہٰذا اس طریقے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔
البتہ اگر طالبات سے توکیل کرائی جائے، اس کی صورت یہ ہے کہ مدرسے کے داخلہ فارم پر یہ عبارت درج کی جائے کہ میں منتظمین مدرسہ کو بحیثیت وکیل یہ اختیار دیتی ہوں کہ وہ زکوٰۃ اور عطیات وغیرہ کی رقوم میرے لیے وصول کر کے طالبات کے قیام ،کھانا اور دیگر ضروریات مدرسہ میں خرچ کریں، فارم پڑھنے کے بعد بالغ طالبات خود اور نابالغ کے ولی دستخط کرے، تو اس صورت میں منتظم مدرسہ وکیل بالقبض والصرف شمار ہوگا ، جس کی وجہ سے منتظمین مدرسہ کو اموال زکوٰۃ ضروریات مدرسہ میں خرچ کرنے کی اجازت ہوگی، اور زکوۃ بھی ادا ہو جائے گی۔

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين۔۔۔۔۔۔۔
ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين -
فتاویٰ ھندیہ كتاب الزكاة وفيه ثمانية أبواب الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها
ص 170/188 جلد1 دارالفکر بیروت
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی محمد عباس ایوبی صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی محمد قاسم چلاسی صاحب
مفتی دار الافتاء