قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی
شریعتِ مطہرہ کی رو سے سونے میں وجوب زکوٰۃ کے لیے نصاب ساڑھے سات تولے سونا ہے ، جبکہ چاندی میں نصاب ساڑھے باون تولے چاندی ہے، اسی طرح سونے یا چاندی کے نصاب کی قیمت کے بقدر نقدی یا مال تجارت کا مالک بھی صاحب نصاب شمار ہوگا، لیکن اگر سونے چاندی میں سے کوئی بھی نصاب مکمل نہ ہو، بلکہ دو ناقص نصاب موجود ہوں، یعنی کچھ سونا اور کچھ چاندی ہو یا اس کے ساتھ کچھ مال تجارت ہو ،یا نقد رقم ہو،تو ایسی صورت میں ان کو باہم ملا کر دیکھا جاےٗ گا، کہ یہ نصاب تک پہنچتے ہیں یا نہیں؟ پھر ایسی صورت میں امام ابو حنیفہ ؒکے ہاں دونوں ناقص نصابوں کی قیمت باہم ملائی جائی گی، جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک قیمت کی بجائے اجزا کے اعتبار سے باہم ملایا جائے گا۔ موجودہ دور میں ضم بالقیمۃ میں حرج کی وجہ سے ضم بالاجزاء کے طریقے پر جواب دینے میں امت کی لیے آسانی کی صورت پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے ہمارے دارالافتاء سے صاحبین کے قول پر فتوی دیا جاتا ہے۔
ضم بالاجزاء کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جس مقدار میں سونا موجود ہو اسے سات سے ضرب دیا جائے، کیونکہ سونا اور چاندی کے نصاب کے درمیان ایک نسبت سات (1:7)کی نسبت پائی جاتی ہے،کیونکہ سونے کے نصاب ساڑھے سات تولے کو اگر سات سے ضرب دیا جائے، تو حاصل ساڑھے باون بنتا ہے، اس لیے جو سونا موجود ہو اس کو سات سے ضرب دیا جائے، پھر جو حاصل ضرب ہو اسے ساڑھے باون سے منفی کیا جائے ، اس کا جو حاصل آئے ، اس مقدار میں چاندی یا اس کی قیمت اگر ملکیت میں موجود ہو تو یہ مکمل نصاب شمار ہوگا ورنہ نہیں چنانچہ
صورت مسئولہ میں اگر سائلہ کے پاس 4 تولہ سونا کے علاوہ (24.5) تولہ چاندی ہو یا 4 تولہ سونا کے علاوہ (71515.5) روپے نقدی ہوں تو اس پر زکوۃ آئے گی وگرنہ زکوۃ نہیں آئے گی۔
اگر اس کا خیال زکوۃ اور قربانی کی شرعی تفصیل سے عدم واقفیت کی بنا پر ہے تو گنہگار نہ ہوگی، لیکن اگر وہ زکوۃ کی ادائیگی اور قربانی کرنے سے بچنے کے حیلے اور بہانے کے طور پر ایسا سوچے تو گنہگار ہوگی۔
مأخوذ از فتاوی جامعہ عثمانیہ : فتویٰ نمبر 8781/297/321: