خشک لکڑیوں پر زکوۃ |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

خشک لکڑیوں پر زکوۃ

فتویٰ نمبر: 2026-004
تاریخِ اشاعت: 02 September 2026
باب: کتاب الزکاۃ و الصدقات
استفتاء / سوال:
ہمارے ہاں چترال میں جلانے کے لیے لکڑیاں جمع کی جاتی ہیں،  اور مذکورہ لکڑیاں ذاتی باغ یا ذاتی جنگل کو کاٹ کر گٹھوں کی صورت جمع کرکے رکھی جاتی ہیں جن کو مقامی زبان میں (چھوک یا باٹی)کہا جاتا ہے۔پھر انہیں( خشک ہونے کے بعد) جلایا جاتا ہے کہیں اگر کسی کو ضرورت پڑے تو بیچ بھی دیا جاتا ہے۔
کیا ایسی لکڑیوں پر بھی عشر   ہے ؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب حامداً و مصلیاً
صورتِ مسئولہ میں   چونکہ لکڑیوں کی  دیکھ بھال اور حفاظت کا مقصد گھریلو ضروریات  یا بطور ایندھن کے استعمال  ہوتا ہے،لہذا ان لکڑیوں پر عشر لازم نہیں ہے، اگرچہ کبھی ضرورت پڑنے پر ان کو فروخت بھی کیا جاتا ہو۔
واضح رہے کہ  درخت لگائے گئے ہوں یا خود رو ہوں اگر ان کے لگانے  یا ان کی دیکھ بھال اور  حفاظت کرنے کا  مقصد  گھریلو ضروریات  میں یا بطور ایندھن کے استعمال میں لانا ہو تو ایسے درختوں پر عشر لازم نہیں ہے، البتہ جو درخت اس نیت سے لگائے گئے ہوں کہ ان کی کٹائی کرکے بیچ کر نفع کمایا جائے  تو ان  درختوں پر یا ان کی قیمت پر عشر لازم ہے، اور وہ خود رو درخت جن کی دیکھ بھال اور حفاظت  بھی بیچ کر نفع کمانے کی نیت سے کی جاتی ہو تو ان  خود رو درختوں یا ان کی قیمت پر بھی عشر لازم ہے۔
📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
سادس ، ۱/۶۸ ، ط: دارالفکر بیروت ‌فلا ‌عشر ‌في ‌الحطب والحشيش والقصب والطرفاء والسعف؛ لأن الأراضي لا تستنمي بهذه الأشياء بل تفسدها حتى لو استنمت بقوائم الخلاف والحشيش والقصب وغصون النخل أو فيها دلب أو صنوبر ونحوها، وكان يقطعه ويبيعه يجب فيه العشر كذا في محيط السرخسي. بدائع الصنائع، کتاب الزکوۃ ، فصل شرائط المحلیۃ، ۲ /۵۸ ، ط: دارالکتب العلمیۃ وغیرھا ومنها أن يكون الخارج من الأرض مما يقصد بزراعته نماء الأرض وتستغل الأرض به عادة ‌فلا ‌عشر ‌في ‌الحطب والحشيش والقصب الفارسي؛ لأن هذه الأشياء لا تستنمى بها الأرض ولا تستغل بها عادة؛ لأن الأرض لا تنمو بها بل تفسد فلم تكن نماء الأرض حتى قالوا في الأرض: إذا اتخذها مقصبة وفي شجره الخلاف، التي تقطع في كل ثلاث سنين، أو أربع سنين أنه يجب فيها العشر؛ لأن ذلك غلة وافرة ويجب في قصب السكر وقصب الذريرة؛ لأنه يطلب بهما نماء الأرض فوجد شرط الوجوب فيجب۔ العقود الدریۃ فی تنقیح  الفتاوی الحامدیۃ ، کتاب الزکوۃ ، ۱/ ۱۳ ،ط: ارالمعرفۃ (سئل) في ‌رجل ‌له ‌أشجار مثمرة في أرض عشرية فقطعها ويريد العشري أخذ عشرها فهل له ذلك (الجواب) : لا عشر في نفس الأشجار المثمرة كما في الزيلعي والبحر وغيرهما (أقول) وإنما العشر في نفس الثمر وفي الأشجار المعدة للقطع كما مر. فقط واللہ اعلم بالصواب
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی نوید حیات صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء