میراث کا ایک مسئلہ - دار الافتاء

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

میراث کا ایک مسئلہ

فتویٰ نمبر: 2026-042
تاریخِ اشاعت: 15 September 2026
باب: تقسیمِ ترکہ اور ورثاء کے حصص
استفتاء / سوال:
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام وعلماۓعظام اس مسٸلہ کےبارے میں کہ ہندکاانتقال ہوا اور اس نےترکہ میں خالص منقولہ وغیرمنقولہ جاٸیدادچھوڑی۔بوقت وفات اس کے درج ذیل ورثإحیات تھے:
شوھر(خالد)
سگی ماں(فاطمہ)
دوسگی بہنیں(زینب وکلثوم)
ایک اخیافی(مادری)بھاٸی(عمر)
ایک چچا(طارق)
مرحومہ کےذمہ کوٸی قرض یاوصیت نہی تھی۔
شرعی روسےترکہ کی تقسیم کس طرح ھوگی?اورکون کتناحصہ پاٸےگا?بینواتوجروا۔
الجواب وباللّٰہ التوفیق

صورت مسٸولہ میں میت کے حقوق متقدمہ (تجہیزوتکفین،قرض،وصیت،)کی اداٸیگی کے بعد بقیہ مال کی تقسیم اسطرح ھوگی۔
:ہند مرحومہ کا تمام خالص ترکہ (منقولہ و غیر منقولہ) 9 برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے گا
شوہر (خالد)کو3 حصے
سگی ماں (فاطمہ)کو 1 حصہ
دو سگی بہنیں (زینب و کلثوم)کو 4 حصے،
ایک اخیافی بھائی(عمر)کو1حصہ
ترکہ ذوی الفروض کے حصص سے پورا ہو جانے کے باعث چچا کو کچھ نہیں ملے گا۔
{نقشہ}
میت۔۔۔۔۔۔۔ہند۔۔……6…..ع……9….
شوھر۔۔۔۔۔۔ماں۔۔۔۔۔۔بہنیں۔۔۔۔۔بہاٸی
۔ (1/2) (1/6) (2/3) (1/6)
[نصف] [سدس] [ثلثان ] [ سدس]
چچا (بقیہ)اگربچ جاۓ
۔{0}

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
وأما الاثنان من السبب فالزوج والزوجة فللزوج النصف عند عدم الولد وولد الابن،
(الفتاوى الهندية:٦/ ٤٥٠ دارالفكر)

وَالثَّالِثَةُ الْأُمُّ، وَلَهَا ثَلَاثَةُ أَحْوَالٍ: السُّدُسُ مَعَ الْوَلَدِ وَوَلَدِ الِابْنِ وَاثْنَيْنِ مِنَ الْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ مِنْ أَيِّ جِهَةٍ كَانُوا،
(الاختيار لتعليل المختار:
٦/ ٨٩مطبعة الحلبي)

الْخَامِسَةُ الْأَخَوَاتُ لِأَبٍ وَأُمٍّ، لِلْوَاحِدَةِ النِّصْفُ، وَلِلثِّنْتَيْنِ فَصَاعِدًا الثُّلُثَانِ،
(الاختيار لتعليل المختار:٥/ ٩٠ مطبعة الحلبي)

(وللواحد من ولد الأم السدس وللأكثر الثلث ذكورهم وإناثهم سواء)
(البحر الرائق:٨/ ٥٦٦دار الكتاب)


وَهُمْ كُلُّ مَنْ لَيْسَ لَهُ سَهْمٌ مُقَدَّرٌ وَيَأْخُذُ مَا بَقِيَ مِنْ سَهْمِ ذَوِي الْفُرُوضِ،
(الاختيار لتعليل المختار:٥/ ٩٢ مطبعة الحلبي)
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
اعجاز الحق درجہ تخصص
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی محمد علی چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء