❓ استفتاء / سوال:
ایک کمپنی کا کام یہ ھے کہ پاکستان سے سٹوڈنٹ کا داخلہ دوسرے ممالک کی یونیورسٹیوں میں کراتی ھے طریقہ کار یہ ھے کہ مثلا یونیورسٹی کی فیس پانچ لاکھ ھے وہ سٹوڈنٹ کو بتاتی ھیں کہ ھم آپ سے آٹھ لاکھ لیں گے پھر وہ سارے پراسس میں اس کی راہنمائی کرتے ھیں ، کیا اس طرح کی کمائی جائز ھے؟
نیز کبھی کبھی جو سٹوڈنٹ یہاں سے کمپنی کے واسطے داخلہ لیتا ھے وہ اپنے ذرائع سے کسی کو یہاں سے بلواتا ھے اور اس سے دس لاکھ لیتا ھے اور کمپنی کے واسطے سے اسکا داخلہ کراتا ھے پانچ لاکھ یونیورسٹی کی فیس تین لاکھ کمپنی کی فیس دو لاکھ اپنا کمیشن لیتا ھے کیا اس طرح معاملہ جائز ھے؟
کسی بھی جاٸز کام پر متعین کرکے کمیشن لینا جاٸز ہے بشرطیکہ ایجنٹ کی جانب سے محنت اورعمل جو کہ قابل اجرت ہو پایا جاۓ اور دونوں طرف رضامندی بھی ہو تو صورت مسٸولہ میں سٹوڈنٹ کا داخلہ کراکر کمپنی کے لیے متعین کرکے3 لاکھ کمیشن لینا جاٸز ہے اور سٹوڈنٹ کا نٸے آنے والے سٹوڈنٹ سے دو لاکھ کمیشن لینا جاٸز نہیں ہے کیونکہ داخلہ کے پراسس میں اسکا کوٸی کردار نہیں ہوتا البتہ سٹوڈنٹ کا کمپنی سے معاہدہ کرکے کمپنی سے لینا جاٸز ہے
📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
(السنن الکبری للبیھقی ١٠٠/٦)
عن على بن زيد عن أبى حرة الرقاشى عن عمه أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال :« لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه۔
( شامی ٨٧/٩)
وفي الحاوي سئل محمد بن