کیش ورک میں صرف حاضری کے بدلے پیسے لینا |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

کیش ورک میں صرف حاضری کے بدلے پیسے لینا

فتویٰ نمبر: 2026-032
تاریخِ اشاعت: 11 September 2026
باب: خرید و فروخت کے مسائل
استفتاء / سوال:
مفتیان کرام۔کیش ورک کے نام سے پراٸیوٹ ادارے معمولی کام کرواکر پیسہ دیتے ھین۔۔بعض لوگ صرف نام لکھ کر کام کیے بغیر پیسہ وصول کرتے ھین۔۔کیا یہ جاٸز ھے؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق

صورت مسئولہ میں اگر ادراے کی طرف سے اجرت کام کرنے پر ملتی ہے تو صرف حاضری لے کر اجرت وصول کرنا جائز نہیں ، البتہ اگر اجرت حاضری پر دی جاتی ہے کام کی شرط نہیں تو پھر اجرت وصول کرنا جائز ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
والاجارۃ لا تخلو: اماان تقع علی وقت معلوم او عمل معلوم فان وقعت علی عمل معلوم فان وقعت علی عمل معلوم فلا تجب الاجرۃ الاباتمام العمل۔۔۔۔۔وان وقعت علی وقت معلوم فتجب الاجرۃ بمضی الوقت ۔۔۔۔الخ( النتف فی الفتاوی، کتاب الاجارۃ، معلومیۃ الوقت والعمل، ص: ۳۳۸، ط: سعید)
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی ارمغان صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی محمد علی چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء