ریال کے بدلے پاکستانی روپے دینا |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

ریال کے بدلے پاکستانی روپے دینا

فتویٰ نمبر: 2026-027
تاریخِ اشاعت: 10 September 2026
باب: خرید و فروخت کے مسائل
استفتاء / سوال:
سوال ۔ایک ساتھی کو سعودی عرب سے لوگ فون کے ذریعے کہتا ہے کہ میرے گھر والوں کو 45ھزار روپے دےدو اور میں مھینہ بعد أپکو ایک ھزار سعودی ریال بیجھونگا جبکہ مارکیٹ میں ایک ھزار ریال کی قیمت 47ھزار روپے ہو۔شرعا اس کا کیا حکم ھے ؟ایسا کار وبار کرنا جایز ھے یا نہیں ؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب بعون الملک الوھاب :
واضح رہے قرض کی ادایگی اسکی مثل سے ہوگی لہذا صورت مسٸولہ میں ریال یا اضافے کی شرط لگانا درست نہیں ہے اگر پاکستانی روپے ادھار لیا ہے تو اتنےہی پاکستانی روپے واپس کرنے ہونگے ۔

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
لمافی ردالمحتار ٨٤٨/٣
الدیون تقضی بأمثالھا ۔
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی فاروق عبداللہ صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء