کرنسی کا اُدھار خرید و فروخت |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

کرنسی کا اُدھار خرید و فروخت

فتویٰ نمبر: 2026-026
تاریخِ اشاعت: 09 September 2026
باب: آن لائن شاپنگ و ای کامرس
استفتاء / سوال:
زید بکر کے پاس آیا کہ مجھے پانچ ہزار درہم کى ضرورت ہے بکر نے پانچ ہزار درہم چار لاکھ (پاکستانی)میں خریدے اور زید پر چار لاکھ بیس ہزار پر بیچ دئے ادھار پر یا نقد پر یہ جائز ہے کہ نہیں اگر جائز نہیں ہے تو اس کى جائز صورت کیسى ہوگى ؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق

واضح رہےمذکورہ صورت بیع صرف کہلاتی ہے بیع صرف میں بدلین کی جنس اور قسم ایک ہونے کی صورت میں کمی بیشی جاٸز نہیں ہے اور مجلس عقد میں قبضہ بھی ضروری ہے ادھار جاٸز نہیں ہے اگر بدلین دونوں مختلف جنس اور قسم کے ہیں تو کمی بیشی جاٸز اور مجلس میں نقد لین دین (قبضہ )ضروری ہے لہذا صورت مسٸولہ میں پانچ ہزار درھم کو چار لاکھ بیس ہزار پاکستانی روپوں کے بدلے ادھار پر بیچنا جاٸز نہیں ہے ہاتھ در ہاتھ بیچنا جاٸز ہے

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
لمافی القدوری کتاب البیوع ص ٩٠
وإذا باع الذهب بالفضة جاز التفاضل ووجب التقابض وإن افترقا في الصرف قبل قبض العوضين أو أحدهما بطل العقد
ولا يجوز التصرف في ثمن الصرف قبل قبضه۔۔۔۔۔۔۔ومن باع درهمين ودينارا بدينارين ودرهم جاز البيع وجعل كل واحد من الجنسين بالجنس الآخر
شامی ٤١٤/٧
باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز)وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز۔
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی فاروق عبداللہ صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء