قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی
احناف کے ہاں مفتی بہ قول یہ ہے کہ جس عورت کا شوہر گم ہو جائے وہ عورت اس وقت تک انتظار کرے گی جب تک اس مرد کے علاقے کے ہم عمر لوگ سب فوت نہ ہو جائیں ، مگر فقہائے حنفیہ میں سے متأخرین حضرات نے وقت کی نزاکت اور فتنوں پر نظر فرماتے ہوئے اس مسئلے میں حضرت امام مالک رحمہ اللہ کے مذہب پر فتوی دے دیا ہے ۔
زوجہِ مفقود (وہ عورت جس کا شوہر لا پتہ ہو)کے لیے مالکیہ کے ہاں حکم یہ ہے : کہ ’’وہ عورت قاضی کی عدالت میں مرافعہ (کیس داخل کرنا) کرے اور گواہوں کے ذریعے یہ ثابت کرے کہ اس کی فلاں شخص سے شادی ہوئی تھی اور گواہوں کے ذریعے اس شوہر کے گم ہونے کو بھی ثابت کرے۔ اس کے بعد قاضی اس لا پتہ شوہر کی تلاش شروع کرے اور اس کو ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔ جب تلاش بیسیار کے بعد قاضی مایوس ہو جائے تو اس عورت کو چار سال انتظار کرنے کا حکم دے ۔‘‘جس وقت قاضی انتظار کرنے کا حکم دے گا اسی وقت سے عورت کے انتظار کے مدت شروع ہوگی ۔ چار سال کے اندر شوہر آگیا تو ٹھیک ،ورنہ چار سال گزرنے کے بعد وہ عورت عدت وفات( چار ماہ دس دن )گزار کر دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے، دوسری دفعہ قاضی کی عدالت سے رجوع کرنا مالکیہ کے ہاں ضروری نہیں ہے ۔
صورت ِ مسئولہ میں چوں کہ عورت تین سال گزار چکی ہے مزید اگر وہ صبر کر سکتی ہے تو جب تک ممکن ہو اپنے شوہر کا انتظار کرے، البتہ بوقت حاجت شدیدہ مثلاً خرچ کا انتظام نہ ہو سکے یا معصیت کے خوف سے (زنا وغیرہ گناہ میں مبتلا ہونا )مزید انتظار ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں مالکیہ کے مذہب پر عمل کرتے ہوئے مذکورہ بالا طریقے سے قاضی کی عدالت میں مرافعہ کر کے موجودہ نکاح سے نکل کر عدت وفات گزارنے کے بعد دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے۔