تین طلاق کا حکم |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

تین طلاق کا حکم

فتویٰ نمبر: 2026-014
تاریخِ اشاعت: 03 September 2026
باب: طلاقِ بائن، رجعی و مغلظہ
استفتاء / سوال:
میں مسمات زائدہ بی بی دختر محمد طارق بقائمی ہوش و حواس حلفیہ اقرار کرتی ہوں کہ میرے خاوند محمد ظہیر ولد ملک محمد یعقوب نے تحریری طور پر پہلی طلاق مؤرخہ  19/01/2017  کو دی تھی، اور پھر دوسری طلاق بھی تحریری طور پر 28/02/2017 کو دی تھی،  اور پھر زبانی طور پر تیسری طلاق 05/08/2023 کو دے دی ہے ۔ اب میرے سابقہ شوہر تحریری طور پر مجھے تیسری طلاق کے کاغذات نہیں دے رہے ہیں نئی زندگی شروع کرنے کے لیے ۔نیا  نکاح رجسٹر کروانے کے لیے تیسری طلاق بھی تحریری طور پر ہونا ضروری ہے ۔
شریعت اس کے بارے میں کیا کہتی ہے کہ کیا طلاق ثلاثہ واقع ہو چکی ہے ؟اب میں نئی زندگی شروع کر سکتی ہوں؟ اگر میرے سابقہ شوہر تحریری طور پر تیسری طلاق لکھ کر نہ دیں تو پھر کیا حکم ہے؟
تنقیحات : تنقیح نمبر 1 : پہلی اور دوسری طلاقیں کن الفاظ کے ساتھ  تھیں؟
تنقیح نمبر 2 : دوسری طلاق کے بعد رجوع یا تجدید نکاح ہوا تھا یا نہیں؟
جوابات : دونوں طلاقیں صریح الفاظ کے ساتھ تھیں
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب حامداً و مصلیاً
صورتِ مسئولہ میں زبانی طور پر تیسری طلاق دینے سے سائلہ پر طلاق ثلاثہ واقع ہو چکی ہیں ۔شریعت کی رو سے عدت گزارنے کے بعد سائلہ نئی زندگی شروع کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ زبانی طور پر طلاق کے الفاظ ادا کرنے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ طلاق کے وقوع کے لیے طلاق کے الفاظ کا تحریری طور پر ہونا شرعاً ضروری نہیں ہے، لہذا دوسرے نکاح کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ زبانی طلاق دینے کے بعد عورت نے عدت گزار دی ہو۔ عدت کے بعد نئی زندگی شروع کرنا(کسی اور جگہ نکاح کرنا) اس کے لیے شرعاً جائز ہے۔
فقط واللہ اعلم بالصواب

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
فتاوی ھندیہ ، کتاب الطلاق ، الباب السادس فی الرجعۃ ، ۱/۴۷۳ ،ط: دارالفکر بیروت وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية. فتاوی تاتارخانیۃ ،کتاب الطلاق، الفصل الرابع، فيما يرجع إلى صريح الطلاق، ۴/۴۲۷ ، ط: مکتبۃ رشیدیۃ وفي الظهيرية: ومتى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد وإن عنى بالثاني الأول لم يصدق في القضاء كقوله: يا مطلقة أنت طالق ... وفي الحاوي: ولو قال ترا يك طلاق يك طلاق يك طلاق! بغير العطف وهي مدخول بها تقع ثلاث تطليقات۔
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی نوید حیات صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء