ذہنی طور پر ڈسٹرپ (غیر متوازن) شخص کا طلاق |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

ذہنی طور پر ڈسٹرپ (غیر متوازن) شخص کا طلاق

فتویٰ نمبر: 2026-005
تاریخِ اشاعت: 02 September 2026
باب: صریح و کنایہ الفاظِ طلاق
استفتاء / سوال:
ایک سوال کا جواب مطلوب ہے ایک شخص ہے جس کا ذہنی توازن بی درست نہیں ہے اور وہ شادی شدہ ہے ابھی کچھ دیر پہلے اس نے اپنے ماموں کو کال کی ہے اور کال پر یہ کہا ہے کہ میں اپنی بیوی کو چھوڑوں گا صرف اتنی بات کر کے اس نے کال کو بند کر لیا ہے اب لڑکی والے غصے کی وجہ سے ان کے گھر میں ائے ہوئے ہیں اور وہ ا کر لڑکی کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں اور اس کا سامان بھی لے جانا چاہتے ہیں کیا اس شخص کا یہ کہنا کہ میں اس کو چھوڑوں گا اس وجہ سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ہوئی صرف اس نے ایک ہی مرتبہ کال پر یہ بات کر کے موبائل کو بند کر دیا تھا اس ایک مرتبہ سے کہنے سے طلاق ہوئی ہے یا نہیں ہوئی جواب مطلوب ہے والسلام
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب حامدا ومصلیا
صورت مسئولہ میں ” چھوڑوں گا ” کے الفاظ مستقبل میں طلاق دینے کے ارادے یا وعدے کےلیے ہیں ان سے طلاق نہیں پڑتی لہذا اس آدمی کی بیوی کو طلاق نہیں ہوگی۔ دوسرا یہ کہ اس کا ذہنی توازن خراب ہے اور جس کا ذھنی توازن ٹھیک نہ ہو اس کی طلاق کا اعتبار نہیں ہے۔

مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی ارمغان صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء