بھینس اور گائے کے دودھ کا تبادلہ |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

بھینس اور گائے کے دودھ کا تبادلہ

فتویٰ نمبر: 2026-015
تاریخِ اشاعت: 03 September 2026
باب: کتاب البیوع
استفتاء / سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
جناب مفتی صاحب!
مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں رہنمائی درکار ہے۔
سوال:
گائے کا دودھ بھینس یا بکری وغیرہ کے دودھ کے بدلے دے سکتے ہیں یا نہیں ؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب حامدا و مصلیا
صورتِ مسئولہ میں چونکہ گائے اور بھینس دونوں ایک جنس سے ہیں، لہذا اگر گائے کا دودھ بھینس کے دودھ کے بدلے میں دیا جائے تو اس میں برابری لازم ہے تفاضل جائز نہیں ہوگا، البتہ بکری کے دودھ کے بدلے گائے کا دودھ دیا جائے تو برابری ضروری نہیں کمی زیادتی جائز ہے؛ کیونکہ گائے اور بکری کی جنس الگ الگ ہے۔

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
المحیط البرھانی ، کتاب البیوع ، الفصل السادس ، ۶/۳۵۹ ، ط: دارالکتب العلمیۃ بیروت واللحوم معتبر بأصولها، ‌فالبقر ‌والجواميس جنس واحد لا يجوز بيع أحدهما بالآخر متفاضلاً، وكذلك الغنم جنس واحد ضأنها ومعزها. وزاد في «المنتقى» : والضأن والمعز جنس واحد في اللبن واللحم، ولو باع لحم الغنم بلحم البقر متفاضلاً يجوز عندنا اعتباراً بالأصول، وكذلك لو باع لبن الغنم بلبن البقر متفاضلاً يجوز، ويعتبر في اللبن الأصول أيضاً كما في اللحم. فتاوی ھندیہ ، کتاب البیوع ، الفصل السادس فی تفسیر الربا ، ۳/۱۲۰ ، ط: دارالفکر بیروت فالبقر والجواميس جنسٌ واحدٌ لا يجوز بيع لحم أحدهما بالآخر متفاضلا والإبل جنسٌ واحدٌ عرابها وبختها وكذلك الغنم جنسٌ واحدٌ ضأنها ومعزها كذا في الذخيرة
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی نوید حیات صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء