عقیقہ کا بکرا کی قیمت تقسیم کرنا |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

عقیقہ کا بکرا کی قیمت تقسیم کرنا

فتویٰ نمبر: 2026-006
تاریخِ اشاعت: 02 September 2026
باب: متفرقات
استفتاء / سوال:
کیا کہتے ہیں علماء اس بارے میں ،میرا بیٹا ہوا ہے ایک ہفتہ پہلے۔اور میں اپنے بیٹے کے عقیقہ کے بجائے بکری کی قیمت کے برابر پیسے کسی غریب کو صدقہ کروں تو کیا ایسا کرنا جائز ہے اور عقیقہ ادا ہوگا یا نہیں؟؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب حامدا و مصلیا
واضح رہے کہ عقیقہ میں حلال جانور کا خون بہانا مقصود ہوتا ہے احادیث مبارکہ میں بچے کے عقیقہ کے موقع پر بکرا یا بکری ذبح کرنے کا حکم وارد ہے۔اس لئے صورت مسولہ میں بکری ذبح کرنے کی بجائے اس کی قیمت کسی غریب کو صدقہ کرنے سے عقیقہ ادا نہیں ہوگا۔
فقط واللہ اعلم بالصواب

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
ترمذی شریف کی حدیث ہے کہ" عن یوسف بن ھالک:انھم دخلوا علی حفصہ بنت عبد الرحمن فسالوھا عن العقیقہ،فاخبرھم ان عائشۃ رضی اللہ عنھا اخبرتھا ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امرھم عن الغلام شاتان مکافتان وعن الجاریۃ شاۃ"جامع الترمذی،ابواب الاضاحیی،باب ما جآء فی العقیقۃ،ج1،ص،410
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی الطاف الرحمن صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء