کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ایک شخص پہلے ایک کام کیا ہے اس سے پوچھنے کے بعد وہ آدمی قسم کھاکر کہتا ہے کہ ایک کام میں نے نہیں کیا ہے۔اب وہ شخص شرمندہ ہے اور قسم کا کفارہ ادا کرنا چاہتاہے۔تو کیا جھوٹی قسم کھانے کی صورت میں قسم کا کفارہ ادا کرکے ذمہ فارغ ہوسکتا ہے۔۔۔؟
الجواب حامدا ومصلیا
واضح رہے کہ ماضی میں کئے ہوئے کام پر اگر کوئی شخص قسم کھائے تو اس قسم کو “یمین غموس”کہتے ہیں ازروئے شریعت ایسا شخص گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوگا تو ایسے شخص کو اللہ تعالی کے حضور توبہ و استغفار کرنا چاہیے توبہ استغفار کے علاوہ جھوٹی قسم پر کوئی کفارہ لازم نہیں آتا اس لئے توبہ استغفار لازم ہے ورنہ معافی نہیں۔
فقط واللہ اعلم بالصواب
فالغموس ھو الحلف علی امر ماض یتعمد الکذب فیہ،فھذہ الیمین یاثم فیھا صاحبھا لقولہ علیہ السلام"من حلف کاذبا ادخلہ اللہ النار"ولا کفارۃ فیھا الا التوبۃ والاستغفار" الھدایۃ،کتاب الایمان،ج2،ص 476
مفتی الطاف الرحمن اخوند
مفتی شاکر اللہ
14460036