• پہلا صفحہ
  • فتاوی
  • قرانی وظائف و دعائیں
  • ہمارے بارے میں
Menu
  • پہلا صفحہ
  • فتاوی
  • قرانی وظائف و دعائیں
  • ہمارے بارے میں

تین سال سے لاپتہ خاوند کا حکم

تاریخ: April 1, 2025 | مفتی: alichitrali | کیٹیگری: حقوق و معاشرت, نکاح / طلاق

متعلقہ فتاویٰ

  • مسجد کے پیسوں کو کاروبار میں لگانا
  • معتزلہ کون؟
  • میٹر خراب ہو

تین سال سے لاپتہ خاوند کا حکم

سوال:

گزارش یہ ہے کہ ایک عورت ہے اس کا خاوند تین سال سے لاپتہ ہیں  آ یا وہ دوسری شادی کر سکتی ہے؟ خاوند کا کوئی پتہ نہیں۔

جواب:

احناف کے ہاں مفتی  بہ قول یہ ہے کہ جس عورت کا شوہر گم ہو جائے وہ عورت اس وقت تک انتظار کرے گی جب تک اس مرد کے علاقے کے ہم عمر لوگ سب فوت نہ  ہو جائیں ، مگر فقہائے  حنفیہ میں سے متأخرین حضرات نے  وقت کی نزاکت  اور فتنوں پر نظر فرماتے ہوئے اس مسئلے میں حضرت امام مالک رحمہ اللہ کے مذہب پر فتوی دے دیا ہے ۔

زوجہِ مفقود (وہ عورت جس کا شوہر لا پتہ ہو)کے لیے مالکیہ کے ہاں حکم یہ ہے  : کہ ’’وہ عورت قاضی کی عدالت میں مرافعہ (کیس داخل کرنا) کرے اور گواہوں کے ذریعے یہ ثابت کرے  کہ اس کی فلاں شخص سے شادی ہوئی تھی اور گواہوں  کے ذریعے اس  شوہر کے گم ہونے کو بھی ثابت کرے۔ اس کے بعد قاضی اس لا پتہ  شوہر کی تلاش شروع کرے اور اس کو ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔ جب تلاش بیسیار کے بعد قاضی مایوس ہو جائے تو اس عورت کو چار سال انتظار کرنے کا حکم دے ۔‘‘جس وقت  قاضی انتظار کرنے کا حکم دے گا اسی وقت سے عورت کے انتظار کے مدت شروع ہوگی ۔ چار سال کے اندر شوہر آگیا تو ٹھیک ،ورنہ چار سال گزرنے کے بعد وہ عورت عدت وفات( چار ماہ دس دن )گزار کر دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے، دوسری دفعہ قاضی کی عدالت سے رجوع کرنا  مالکیہ کے ہاں ضروری نہیں ہے ۔

صورت ِ مسئولہ  میں چوں کہ عورت تین سال گزار چکی ہے مزید اگر وہ صبر کر سکتی ہے تو جب تک ممکن ہو اپنے شوہر کا انتظار کرے، البتہ بوقت حاجت شدیدہ مثلاً خرچ کا انتظام نہ ہو سکے یا معصیت کے  خوف سے  (زنا  وغیرہ گناہ میں مبتلا ہونا )مزید انتظار ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں مالکیہ کے مذہب پر عمل کرتے ہوئے مذکورہ بالا طریقے سے قاضی کی عدالت میں مرافعہ کر کے  موجودہ نکاح  سے نکل کر عدت وفات گزارنے کے بعد دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے۔

🔹 حوالہ:

إعلاء السنن، كتاب المفقود، باب إمرأته حتى ياتيها البيان، ج:13، ص:67 ومذهب الحنفية في الباب، وإن كان قوياّ روايةّ و درايةّ، ولكن المتأخرين منا قد أجازوا الإفتاء بمذهب مالك عند الضرورة نظراّ إلى فساد الزمان۔ القهستاني، جامع الرموز، كتاب المفقود، ج:3، ص: 390 فلو أفتى به موضع الضرورة، ينبغي أن لا بأس به على ما أظن

✅ المجیب:

✅ تصدیق کنندگان:

كتبہ : نوید حیات ربانی، الجواب صحیح مفتی شاکراللہ مدظلہ

📌 فتویٰ نمبر:

14460015

تین سال سے لاپتہ خاوند کا حکم

Recent Comments

No comments to show.

Archives

  • April 2026
  • August 2025
  • April 2025
  • March 2025
  • حقوق و معاشرت (9)
    • اخلاق / آداب (2)
      • بالوں کے احکام و آداب (1)
      • ظلم / مظالم/دھوکہ، فراڈ (1)
    • نکاح / طلاق (7)
      • تین طلاقیں (1)
      • رضاعت (1)
      • فسخ و تفریق (1)
      • محرمات (2)
      • مہر / جہیز / بارات (1)
      • نان و نفقہ (2)
  • عبادات (11)
    • حج / عمرہ (1)
    • ذبیحہ / قربانی (1)
      • عقیقہ اور اس کے احکام (1)
    • زکوٰۃ / صدقات (3)
      • ادائے زکوٰۃ (1)
      • سونے ، چاندی اور نقد کی زکوٰۃ (1)
      • عشر و خراج (1)
      • مصارف زکوٰۃ (1)
    • نماز (6)
      • جماعت / امامت (2)
      • جمعہ و عیدین (1)
      • مسجد کے آداب و احکام (3)
  • عقائد (3)
    • اسلامی عقائد (1)
      • قبر و آخرت (1)
    • بدعات / رسوم (1)
      • بدعات (1)
    • مذاہب / مسالک (1)
      • معتزلہ (1)
  • معاملات (9)
    • بیع / تجارت (3)
      • بیع صحیح ، فاسد اور باطل (1)
      • نقد اور ادھار خرید و فروخت کے احکام (2)
    • حدود / قصاص (1)
      • قصاص و دیت (1)
    • سود / بینکاری / انشورنس / شیئرز (2)
      • سودی قرضہ کی لین دین (1)
      • قرض کے احکام (1)
      • متفرقات سود (1)
    • وراثت / وصیت (4)
      • میت کی وصیت اور اقرارات (1)
      • ورثاء اور ان کے حصص (2)
  • ممنوعات و مباحات (1)
    • قسم / منت (1)
      • قسم و کفارات (1)