ایک سوال کا جواب مطلوب ہے ایک شخص ہے جس کا ذہنی توازن بی درست نہیں ہے اور وہ شادی شدہ ہے ابھی کچھ دیر پہلے اس نے اپنے ماموں کو کال کی ہے اور کال پر یہ کہا ہے کہ میں اپنی بیوی کو چھوڑوں گا صرف اتنی بات کر کے اس نے کال کو بند کر لیا ہے اب لڑکی والے غصے کی وجہ سے ان کے گھر میں ائے ہوئے ہیں اور وہ ا کر لڑکی کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں اور اس کا سامان بھی لے جانا چاہتے ہیں کیا اس شخص کا یہ کہنا کہ میں اس کو چھوڑوں گا اس وجہ سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ہوئی صرف اس نے ایک ہی مرتبہ کال پر یہ بات کر کے موبائل کو بند کر دیا تھا اس ایک مرتبہ سے کہنے سے طلاق ہوئی ہے یا نہیں ہوئی جواب مطلوب ہے والسلام
الجواب حامدا ومصلیا
صورت مسئولہ میں ” چھوڑوں گا ” کے الفاظ مستقبل میں طلاق دینے کے ارادے یا وعدے کےلیے ہیں ان سے طلاق نہیں پڑتی لہذا اس آدمی کی بیوی کو طلاق نہیں ہوگی۔ دوسرا یہ کہ اس کا ذہنی توازن خراب ہے اور جس کا ذھنی توازن ٹھیک نہ ہو اس کی طلاق کا اعتبار نہیں ہے۔
وَلَا يَقَعُ طَلَاقُ الصَّبِيِّ وَإِنْ كَانَ يَعْقِلُ وَالْمَجْنُونُ وَالنَّائِمِ وَالْمُبَرْسَمُ وَالْمُغْمَى عَلَيْهِ وَالْمَدْهُوشُ هَكَذَا فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ. وَكَذَلِكَ الْمَعْتُوهُ لَا يَقَعُ طَلَاقُهُ أَيْضًا وَهَذَا إذَا كَانَ فِي حَالَةِ الْعَتَهِ أَمَّا فِي حَالَةِ الْإِفَاقَةِ فَالصَّحِيحُ أَنَّهُ وَاقِعٌ هَكَذَا فِي الْجَوْهَرَةِ النَّيِّرَةِ.(فتاوی الھندیہ، کتاب الطلاق) لَوْ قَالَ بِالْعَرَبِيَّةِ أُطَلِّقُ لَا يَكُونُ طَلَاقًا إلَّا إذَا غَلَبَ اسْتِعْمَالُهُ لِلْحَالِ فَيَكُونُ طَلَاقًا (الفتاوی الھندیہ، کتاب الطلاق، باب الطلاق بالافاظ الفارسیۃ)
حافظ ارمغان
مفتی شاکر اللہ چترالی
14470088