محترم مفتیان کرام مسئلہ یہ ہے کہ ہم حویلی محمد خاں یونین کونسل بھمبہ کلاں تحصیل کوٹ رادھا کشن ضلع قصور کے رہائشی ہیں ہمارے یونین کونسل کی آبادی 25000ہزارسےزائدہے اور جمعہ کی تمام شرائط پائی جاتی ہیں بہمبہ کلاں اور ہمارے حویلی محمد خان کے درمیان تقریباً دو کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور درمیان میں ایک دو ایکڑ کے فاصلے پر آبادیاں بھی موجود ہے اب مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے حویلی محمد خان میں جمعہ ہوسکتا ہے کہ نہیں
سائلین
اہلیان علاقہ حویلی محمد خان
و مولانا محمد عمران چترالی
الجواب ومنہ الصدق والصواب
واضح رہے وجوب نماز جمعہ کی شراٸط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے جہاں جمعہ کی نماز ادا کیجاتی ہے وہ جگہ شہر ہو یافناء شہر ہو یاقریہ کبیرہ (بڑاگاٶں)ہو عندالاحناف قریہ کبیرہ کے بارے میں فقہاء فرماتے ہیں کم از کم ڈھاٸی تین ہزار آبادی پر مشتمل گاٶں ہو اسمیں بڑا بازار ہو جہاں ضروریات زندگی کے اشیاء میسر ہو تو ایسے گاٶں میں جمعہ کی نماز پڑھنا جاٸز ہے۔
لہذا صورت مسٸولہ میں مذکورہ یونین کونسل کی آبادی 25000 پچیس ہزار نفوس پر مشتمل ہے اور جمعہ کی تمام شراٸط بھی پاٸی جاتی ہیں تو اسکو قریہ کبیرہ شمار کیا جاۓگا اس لیے اس بستی میں جمعہ کی نماز صحیح ہے
نوٹ :یاد رہے یہ اس صورت میں ہے جب مذکورہ یونین کونسل ایک ہی گاٶں اورایک ہی قصبہ ہو اگر مختلف قصبات پر مشتمل یونین کونسل ہے تو اسکا جواب الگ ہے دوبارہ پوچھاجاۓ
عن علی رضی اللہ عنہ انہ قال :لاجمعة ولاتشریق الا فی مصر جامع (علاءالسنن ۸/۱ وتقع فرضاً في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنها لاتجوز في الصغيرة (شامی ۱/ ۵۳۷ ) فقط واللہ اعلم
کتبہ فاروق عبداللہ غفرلہ، الجواب صحیح مفتی شاکراللہ چترالی
1446003