میں ایک کمپنی میں سیلری پہ کام کرتا ہوں چار سالون سے میرے ساتھ دو ہندو لیبر کام کرتے تھے ہم سیلری کے علاوہ ٹھیکہ لے کے بھی کام کرتے تھے غالباً دو سال پہلے ٹھیکہ والا پندرہ سو ریال باقی تھے کمپنی کے پاس اس پندرہ سو ریال میں پانچ سو ریال وہ لیبر لوگوں کے باقی تھے کمپنی نے مجھے وہ پندرہ سو ریال میں نو سو ریال دیا باقی انہون نے کہا لینا ہے یہ ہم دے رہے ہیں باقی ہم نہیں دے سکتے ہیں اب وہ میرے پاس جو دو ہندو بندے کام کرتے تھے وہ دونوں نیپال میں ہین انکا کوئی رابطہ نہی ہے میرے پاس اگر وہ مسلم ہوتے مین انکا پانچ سو ریال کسی مدرسے یا مسجد میں دیتا کسی یتیم کو دیتا تاکہ قیامت کے دن انکے کام آتے جنکو پیسہ دینا ہے وہ ہندو ہین انکے یہ رقم کا کیا کروں رہنمائی فرمائیں انور حسین چترال اٹانی
صورت مسٸولہ میں دونوں ہندٶں کے پیسے ان تک پہنچانے کی حتی الامکان کوشش کی جاۓ ان کے ملک کے لوگوں سے معلومات حاصل کیجاۓ یا ان کو جاننے والا کوٸی مل جاۓ ان کے حوالے کی جاۓ تمام کو ششوں کے باوجود دونوں تک رساٸی ممکن نہ ہو توان پیسوں کو اپنے پاس محفوظ رکھاجاۓ یا سعودی حکومت کے پاس بیت المال میں جمع کی جاۓ اگر بیت المال کا نظام نہیں ہے تو رفاہ عامہ کےکام میں خرچ کی جاۓ ۔
كل لقطة يعلم أنها كانت لذمي لا ينبغي أن يتصدق بها ولكن تصرف إلى بيت المال لنوائب المسلمين، كذا في السراجية"۔ ( هندية۲/۲۸۹)
کتبہ: فاروق عبداللہ ، الجواب صحیح : مفتی شاکرا للہ
14460012