السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ سوال یہ ہے کہ ایک شخص نے انتقال سے پہلے وصیت کی تھی مکان میں سے بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر حصہ دیا جائے سؤال یہ ہے کہ بیٹی کا حصہ تو بیٹے سے کم ہوتا اب کیا کریں۔
صورت مسٸلہ میں تمام ورثاء بالغ ہوں اور سب رضامند ہوکر مرحوم کی وصیت کے مطابق بیٹیوں کو بیٹوں کے برابر حصہ دیتے ہیں تو یہ جاٸز ہے ۔
اگر ورثاء نابالغ ہوں یابیٹیوں کو وصیت کے مطابق حصہ دینے پر راضی نہ ہوں تو شریعت کامقرر کردہ (آدھا)حصہ ہی مرحوم کی بیٹیوں کو ملے گا مرحوم کی وصیت بیٹیوں کےحق میں نافذ نہیں ہوگی .
ومن اوصى لاجنبي و لوارثه ، فللاجنبي نصف الوصية ، وتبطل وصية الوارث۔(الهداية ،كتاب الوصايا ، ۸/ ۲۹۲) ولا لوارثہ ……إلابإجازة ورثتہ لقولہ علیہ الصلاة والسلام: لا وصیة لوارث إلا أن یجیزھا الورثة(الدر المختار مع رد المحتار، ۱۰/ ۳۴۶)
کتبہ : مفتی فاروق عبد اللہ ، الجواب صحیح: مفتی شاکراللہ
14460001