پوچھنا یہ تھا کہ ایک محلے کی مسجد میں کچھ لوگوں کا امام صاحب سے اختلاف ہے اور امام صاحب بھی ان لوگوں کو ناپسند کرتے ہیں اور سب اس مسجد کے نمازی ہیں اور اس علاقے کی واحد مسجد ہے ایسی صورت میں نماز اکیلی پڑھی جائے مسجد کے اندر یا اسی امام کے پیچھے پڑھی جائے جبکہ دل میں امام سے اختلاف ہو۔
مقتدیوں اور امام کے مابین اس نوعیت کا اختلاف ہونا مناسب نہیں ہے، اسے ختم کرنا چاہیے،امام اور مقتدیوں کے درمیان عقیدت و محبت کا تعلق ہونا چاہیے۔البتہ اگر اختلاف کی کوئی ٹھوس بنیاد نہ ہو یا مقتدی ذاتی بنیاد پر اختلاف کریں اور امام کے پیچھے نماز نہ پڑھنا چاہیں تو پھر مقتدی لائقِ اصلاح ہیں، انہیں اپنے امام کی قدر کرنی چاہیے۔ مقتدی غلطی پر ہوں اور وہ امام کے پیچھے نماز نہ پڑھنا چاہیں تو وہ گناہ گار ہوں گے۔
اور اگر اختلاف کی بنیاد مضبوط ہو اور واقعۃً کوئی شرعی وجہ ہو تو اہلِ علم کے ذریعہ امام کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایسی صورت میں جب کہ امام شرعاً غلطی پر ہو اور اکثر مقتدیوں کے نہ چاہتے ہوئے امامت کرے تو اس کے لیے یہ مکروہ ہے، تاہم مقتدیوں اور امام سب کی نماز ادا ہوجائے گی۔اور مقتدیوں کے لیے اس صورت میں بھی اکیلے نماز پڑھنے سے اسی امام کے پیچھے جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا افضل ہے۔
کتبہ شاہد عمران الجواب صحیح مفتی شاکراللہ مدظلہ
رد المحتار : (1/ 562) "أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع" الدر المختار: (1/ 558) " (أو الخيار إلى القوم) فإن اختلفوا اعتبر أكثرهم ولو قدموا غير الأولى أساءوا بلا إثم"------------------------------------------------
14460011