السلام عليكم ایک آدمی سے قتل ہوا اب دیت پر رضامندی ہوگئی وہ اپنے بھائیوں سے کہتاہے مجھے پر جو دیت ہے اس کا اس کا اداء کرنا میرے ساتھ برابری میں تم پر بھی لازم ہے بھائی عرصہ سے سب الگ الگ ہیں نفع نقصان اپنا اپنا ہے وراثت تقسیم ہے شریعت کی روشنی میں وضاحت درکارہے
دیت کے بارے میں تفصیل یہ ہے قتل خطاء،جاری مجری خطاء،شبہ عمد،قتل بالسبب میں دیت واجب ہوجاۓ تو قاتل کے عاقلہ (وراثت کی ترتیب کے مطابق رشتہ داروں)پر بھی واجب ہوگی،
اور قتل عمد میں دیت صرف قاتل کے مال سے ادا کیجاۓگی
لہذا صورت مسٸولہ میں اگر قتل عمد (جان بوجھ کر بندوق ،تلوار یا کسی دھاری دار آلہ سےقتل)ہوا ہے تو قاتل کے مال سے دیت ادا کی جاۓ گی عاقلہ کو شامل نہیں جایےگا
(وَأَمَّا) بَيَانُ مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ الدِّيَةُ فَالدِّيَةُ تَجِبُ عَلَى الْقَاتِلِ؛ لِأَنَّ سَبَبَ الْوُجُوبِ هُوَ الْقَتْلُ، وَإِنَّهُ وُجِدَ مِنْ الْقَاتِلِ، ثُمَّ (الدِّيَةُ) الْوَاجِبَةُ عَلَى الْقَاتِلِ نَوْعَانِ: نَوْعٌ يَجِبُ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ، وَنَوْعٌ يَجِبُ عَلَيْهِ كُلِّهِ، وَتَتَحَمَّلُ عَنْهُ الْعَاقِلَةُ، بَعْضَهُ بِطَرِيقِ التَّعَاوُنِ إذَا كَانَ لَهُ عَاقِلَةٌ، وَكُلُّ دِيَةٍ وَجَبَتْ بِنَفْسِ الْقَتْلِ الْخَطَأِ أَوْ شِبْهِ الْعَمْدِ تَتَحَمَّلُهُ الْعَاقِلَةُ، الخ بدائع الصنائع ۷/۲۵۵ (مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ الدِّيَةُ)
کتبہ فاروق عبدالله غفرلہ الجواب صحیح مفتی شاکراللہ چترالی
1446007