ازدواجی ذمہ داریاں نبھانے اور نان نفقہ دینے کے لیے تیار نہ ہونے كي صورت ميں شرعي رهنمائی
میں اسلام دین ولد حاجی احمد دین ساکن اڈہ سرائے مہاجر ضلع بھکر کا رہا ئشی ہوں میرا مسئلہ یہ ہے کہ عرصہ 4 سال قبل میں نے اپنی یتیم بھتیجی کا نکاح ساتھ امان اللہ ولد محمد اسحق کے کیا اس وقت لڑکا (امان الله) سعودی عرب میں مزدوری کےلیے گیا تھا اس کے اصرار اور گھر والوں کے اصرار پر اس کے بھائی جو کہ اس کا ولی مقرر ہوا تھا کے ہاتھ ایجاب و قبول کروا کر نکاح کر دیا اور رخصتی اس کے آنے پر دو سال بعد ہونی تھی لیکن بار بار کے تقاضے کے باوجود وہ ابھی تک واپس بھی نہیں آتا اور ہمارے طلاق کے مطالبے پر بھی غور نہیں کرتا نہ ہی جواب دیتا ہے بلکہ دھمکیاں دیتا ہے اس صورت میں بذریعہ عدالت طلاق لینے پر شریعت کیا کہتی ہے یا کوئی اور صورت جو ممکن ہو براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ اگر شوہر ازدواجی ذمہ داریاں نبھانے اور بیوی کا نان نفقہ دینے کے لیے تیار نہ ہو رہا ہو اور نہ ہی طلاق دیتا ہو تو بیوی نکاح سے خلاصی کے لیے عدالت سے رجوع کرسکتی ہے ،البتہ نکاح سے خلاصی کے لیے عدالت سے اس طرح رجوع کرے کہ عدالت میں شوہر کے ازدواجی ذمہ داریاں نہ نبھانے اور نان نفقہ نہ دینے کا دعویٰ کرے اور اپنے دعویٰ کو شرعی گواہوں کے ذریعے عدالت میں ثابت کرے۔ پھر عدالت تنسیخ نکاح کا فیصلہ دے۔ عدالت کا ایسا فیصلہ معتبر ہوگا ا اور میاں بیوی میں جدائی واقع ہو جائے گی،اور اگر عدالت فیصلہ دیتے وقت ان شرائط کی رعایت نہیں رکھتی تو عدالتی فیصلے کو شرعا تنسیخ نکاح قرار نہیں دیا جائے گا۔اور میاں بیوی میں کے درمیان جدائی واقع نہیں ہو گی۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 225) "وأما حجة المدعي والمدعى عليه فالبينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه لقوله عليه الصلاة والسلام «البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه» جعل عليه الصلاة والسلام البينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه والمعقول كذلك لأن المدعي يدعي أمرا خفيا فيحتاج إلى إظهاره وللبينة قوة الإظهار لأنها كلام من ليس بخصم فجعلت حجة المدعي واليمين" حيله ناجزه(73) "وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير مانصه:إن منعها نفقة الحال فلها نفقة القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق عليه.قال محشيه قوله:وإلا طلق أي طلق عليه الحاكم من غير تلوم إلي أن قال:وإن تطوع بالنفقة قريب أوأجنبي فقال ابن القاسم لها أن تفارق لأن الفراق قد وجب لها.وقال ابن عبدالرحمن لا مقال لها لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتهي وهو الذي تقضيه المدونة كما قال ابن المناصف-----
کتبہ شاہد عمران، الجواب صحیح مفتی شاکراللہ چترالی
1446006