مجھے دو مسئلوں کا جواب تفصیل سے چاہیے اور لکھ کر چاہیے تاکہ میں اس مسئلے کا پوسٹ چھاپ کر جو میری طرح پریشان ہیں اس مسئلے سے ان کو دے سکو ں۔مسئلہ یہ ہے کہ گھر میں کسی کے پاس چار تولہ سونا ہو اور اس کے پاس چاندی جتنے پیسے بھی ہوں، اور وہ یہ خیال کریں کہ جب میرے پاس سونے کا نصاب مکمل ہوجائےتو پھر میں زکاۃ بھی دوں گی اور قربانی بھی کروں گی۔ کیا وہ اس سوچ سے گناہ گار ہوگی یا نہیں ؟
کیا اس پر چار تولہ سونا اور کچھ چاندی یا کچھ پیسے ہوں تو زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
شریعتِ مطہرہ کی رو سے سونے میں وجوب زکوٰۃ کے لیے نصاب ساڑھے سات تولے سونا ہے ، جبکہ چاندی میں نصاب ساڑھے باون تولے چاندی ہے، اسی طرح سونے یا چاندی کے نصاب کی قیمت کے بقدر نقدی یا مال تجارت کا مالک بھی صاحب نصاب شمار ہوگا، لیکن اگر سونے چاندی میں سے کوئی بھی نصاب مکمل نہ ہو، بلکہ دو ناقص نصاب موجود ہوں، یعنی کچھ سونا اور کچھ چاندی ہو یا اس کے ساتھ کچھ مال تجارت ہو ،یا نقد رقم ہو،تو ایسی صورت میں ان کو باہم ملا کر دیکھا جاےٗ گا، کہ یہ نصاب تک پہنچتے ہیں یا نہیں؟ پھر ایسی صورت میں امام ابو حنیفہ ؒکے ہاں دونوں ناقص نصابوں کی قیمت باہم ملائی جائی گی، جبکہ صاحبینؒ کے نزدیک قیمت کی بجائے اجزا کے اعتبار سے باہم ملایا جائے گا۔ موجودہ دور میں ضم بالقیمۃ میں حرج کی وجہ سے ضم بالاجزاء کے طریقے پر جواب دینے میں امت کی لیے آسانی کی صورت پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے ہمارے دارالافتاء سے صاحبین کے قول پر فتوی دیا جاتا ہے۔
ضم بالاجزاء کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جس مقدار میں سونا موجود ہو اسے سات سے ضرب دیا جائے، کیونکہ سونا اور چاندی کے نصاب کے درمیان ایک نسبت سات (1:7)کی نسبت پائی جاتی ہے،کیونکہ سونے کے نصاب ساڑھے سات تولے کو اگر سات سے ضرب دیا جائے، تو حاصل ساڑھے باون بنتا ہے، اس لیے جو سونا موجود ہو اس کو سات سے ضرب دیا جائے، پھر جو حاصل ضرب ہو اسے ساڑھے باون سے منفی کیا جائے ، اس کا جو حاصل آئے ، اس مقدار میں چاندی یا اس کی قیمت اگر ملکیت میں موجود ہو تو یہ مکمل نصاب شمار ہوگا ورنہ نہیں چنانچہ
صورت مسئولہ میں اگر سائلہ کے پاس 4 تولہ سونا کے علاوہ (24.5) تولہ چاندی ہو یا 4 تولہ سونا کے علاوہ (71515.5) روپے نقدی ہوں تو اس پر زکوۃ آئے گی وگرنہ زکوۃ نہیں آئے گی۔
اگر اس کا خیال زکوۃ اور قربانی کی شرعی تفصیل سے عدم واقفیت کی بنا پر ہے تو گنہگار نہ ہوگی، لیکن اگر وہ زکوۃ کی ادائیگی اور قربانی کرنے سے بچنے کے حیلے اور بہانے کے طور پر ایسا سوچے تو گنہگار ہوگی۔
مأخوذ از فتاوی جامعہ عثمانیہ : فتویٰ نمبر 8781/297/321:
بدائع الصنائع ، كتاب الزكوة ،۲/۴۰۴،ط: دارالكتب العلمية أما الأول فكمال النصاب شرط وجوب الزكاة فلا تجب الزكاة فيما دون النصاب؛ لأنها لا تجب إلا على الغني والغنى لا يحصل إلا بالمال الفاضل عن الحاجة الأصلية الفتاوى التاتارخانية، كتاب الزكوة، فصل في زكوة المال، ۳/۱۵۷، ط : مكتبه رشيديه ويضم الذهب الی الفضة،والفضة الی الذهب، ويكمل احدى النصابين بالآخرعند علمائنا۔۔۔۔۔۔ ثم قال أبو حنيفة:يضم باعتبار القيمة،وقال أبو يوسف و محمد:يضم بإعتبار الأجزاء يعني بالوزن۔
نوید حیات ربانی الجواب صحیح مفتی شاکراللہ مدظلہ
14460016