❓ استفتاء / سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلے کے بارے میں کہ:
بکر نے زید سے دو منزلہ مکان خریدا۔ خریداری سے پہلے ہی مکان کا نیچے والا حصہ کرایے پر دیا ہوا تھا، جو کہ خریداری کے بعد بھی جاری رہا۔ مکان کی فروختگی کے وقت زید ملک سے باہر تھا ان کے والد یہاں موجود تھے، زید سے فون پر بات طے ہوئی اور ان کے والد بطور وکیل کے یہاں معاملات طے کر ہے تھے، بکر نے ایڈوانس زید کے اکاؤنٹ میں 30 لاکھ روپے بھیج دیے۔
بیع و شراء کے وقت فریقین کے مابین زبانی درج ذیل باتیں طے پائیں:
1. یہ کہ زید نے اپنا مکان بکر کے ہاتھ بیچ دیا ہے اس شرط پر کہ اگر بکر (مشتری ) نے سودا کینسل کیا تو اس نے مکان کی خریداری کے وقت جو ایڈوانس ادا کیا ہے وہ واپس نہیں ملے گا ، اور اگر زید (بائع ) نے سودا کینسل کیا تو وہ بکر کو ادا شدہ کل ایڈوانس رقم کا ڈبل فراہم کرے گا ۔
2. اور زید نے یہ شرط بھی رکھی کہ مکان کا سیکنڈ فلور دسمبر تک زید ہی کے استعمال میں رہے گا دسمبر کے بعد زید سیکنڈ فلور بھی مکمل بکر کو حوالہ کرے گا اور فرسٹ فلور جو کرایہ پر چڑھا ہوا ہے وہ کرایہ فی الحال زید ہی وصول کرے گا اور اپنے استعمال میں لائے گا اکتوبر سے اس فلور کا کرایہ بکر کو لینے کا اختیار ہوگا۔
بکر کو زید نے کہا کہ میں چند دنوں کیلئے پاکستان آرہا ہوں آپ پیمنٹ کا انتظام کر لیں اور جب میں آ جاؤں تو پیمنٹ ادا کر یں مکان آپ کے نام پر ٹرانسفر ہوگا ، اس صورت حال کے پیش نظر بکر نے اپنا ایک اور مکان اونے پونے داموں نقصان میں بیچ ڈالا تا کہ زید کیلئے رقم کا انتظام ہو سکے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس طرح یہ سودا درست ہوا ہے یا نہیں اور مذکورہ شرائط کی پابندی فریقین کے لئے ضروری ہے یا نہیں؟
جب کہ اب زید سودا سے انکار کر رہا ہے اور سودا کینسل کرنا چاہتا ہے کیا مذکورہ شرائط کے مطابق اس پر بکر کی طرف سے ادا شدہ رقم کا ڈبل دینا لازم ہے یا نہیں؟
الجواب بعون الملك الوهاب
واضح رہے کہ خرید و فروخت کا معاملہ کرتے وقت ایسی شرط لگانا جس شرط کا یہ عقد نہ تقاضا کرتا ہو اور نہ ہی یہ شرط اس معاملہ کے مناسبات میں سے ہو، اور اس شرط میں بیچنے والے یا خریدنے والے کا کوئی فائدہ ہو (یا مبیع کا فائدہ ہو، بشرطیکہ مبیع اس کا اہل ہو، مثلاً: غلام ہو) تو یہ شرط خرید و فروخت کے معاملہ کو فاسد کردیتی ہے۔ شرعی اعتبار سے شرطِ فاسد کی صورت میں فروخت کنندہ اور خریدار کے لیے حکم یہ ہے کہ اس معاملہ کو ختم کرکے نئے سرے سے معاملہ کریں۔ شرطِ فاسد کی موجودگی میں مشتری کے لیے مبیع سے استفادہ جائز نہیں ہوتا، فقہاءِ کرام نے بیوعِ فاسدہ کو سود کے حکم میں شامل کیا ہے۔
شروطِ فاسدہ کی بنا پر شریعت نے جب بیع کو فاسد قرار دیا ہے تو اس میں عاقدین کی رضا وعدم رضا کا اعتبار نہیں، بلکہ اس عقد میں موجود اس خرابی (شرطِ فاسد) کو جب تک دور نہ کیا جائے، اس وقت تک شریعت کی نگاہ میں وہ بیع درست نہیں ہے، ایسی بیع کو ختم کرکے شرطِ فاسد کے بغیر بیع کرنا لازم ہے۔
صورتِ مسئولہ میں بیع کے وقت فریقین کے درمیان طے پانے والی درج ذیل دونوں شرائط، شرطِ فاسد کے حکم میں داخل ہیں:
اول: یہ شرط کہ اگر مشتری بکر نے سودا کینسل کیا تو اس کا ادا کردہ ایڈوانس واپس نہیں ملے گا، اور اگر بائع زید نے سودا کینسل کیا تو وہ بکر کو ادا شدہ کل ایڈوانس رقم کا ڈبل فراہم کرے گا۔ یہ شرط عقدِ بیع کا تقاضا نہیں کرتی اور اس میں بلاعوض مالی نفع مقرر کیا گیا ہے، اس لیے یہ شرطِ فاسد ہے۔
دوم: یہ شرط کہ مکان کا سیکنڈ فلور دسمبر تک زید ہی کے استعمال میں رہے گا، اور فرسٹ فلور جو کرایے پر چڑھا ہوا ہے، اس کا کرایہ فی الحال زید ہی وصول کرے گا اور اپنے استعمال میں لائے گا، اکتوبر سے اس فلور کا کرایہ بکر کو لینے کا اختیار ہوگا۔ یہ شرط بھی بائع کے لیے ایسا نفع مقرر کرتی ہے جو عقدِ بیع کا مقتضیٰ نہیں، اس لیے یہ بھی شرطِ فاسد ہے۔
📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
الهداية شرح البداية - (3 / 48):
"وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده كشرط أن لا يبيع المشتري العبد المبيع لأن فيه زيادة عارية عن العوض فيؤدي إلى الربا أو لأنه يقع بسببه المنازعة فيعري العقد عن مقصوده."
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر - (3 / 90):
"ولو كان البيع بشرط لايقتضيه العقد وفي نفع لأحد المتعاقدين أي البائع والمشتري أو لمبيع يستحق النفع بأن يكون آدميًّا فهو أي هذا البيع فاسد لما فيه من زيادة عرية عن العوض فيكون ربا وكل عقد شرط فيه الربا يكون فاسدًا."
البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (8 / 19):
"قال رحمه الله: (يفسد الإجارة الشرط) قال في المحيط: كل جهالة تفسد البيع تفسد الإجارة؛ لأن الجهالة المتمكنة في البدل أو المبدل تفضي إلى المنازعة وكل شرط لايقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين يفضي إلى المنازعة فيفسد الإجارة."
الهداية شرح البداية -
(3 / 51):
"ولكل واحد من المتعاقدين فسخه رفعًا للفساد وهذا قبل القبض ظاهر؛ لأنه لم يفد حكمه فيكون الفسخ امتناعًا منه، و كذا بعد القبض إذا كان الفساد في صلب العقد لقوته وإن كان الفساد بشرط زائد فلمن له الشرط ذلك دون من عليه لقوة العقد إلا أنه لم تتحقق المراضاة في حق من له الشرط".
الاختيار لتعليل المختار - (2 / 23):
"(و) ولهذا كان (لكل واحد من المتعاقدين فسخه) إزالةً للخبث ورفعًا للفساد (و يشترط قيام المبيع حالة الفسخ)؛ لأن الفسخ بدونه محال."
والله اعلم بالصواب