کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام فجر کی سنت پہلے ادا کی جائے یا فرض پہلے ادا کی جائے اگر نماز جماعت کی کھڑی ہو گئی ہے تو ۔
واضح رہے کہ فجر کی جماعت اگر کھڑی ہوجائے اور دو سنت پڑھ کر امام کے ساتھ جماعت میں شریک ہوکر ایک رکعت ملنے کی امید ہو،اور ایک قول کے مطابق اگر سنت پڑھنے کے بعد سلام سے پہلے پہلے تشہد میں شامل ہونے کا یقین ہے
تو اسے چاہیے کہ فجر کی سنت مسجد کے کسی کونے،برآمدے،دروازےصحن یا جماعت کی صفوں سے ہٹ کر ادا کرے پھر امام کے ساتھ جماعت میں شامل ہوجائے، ! اگر جماعت نکلنے کا اندیشہ ہو تو سنتیں چھوڑ کر فرض نماز میں نےشامل ہوجائے۔
(یہ حکم صرف فجر کی سنتوں کے لیے خصوصی تاکید کی وجہ سے آئی ہے اگر فجر کے علاوہ دوسری کوئی بھی فرض نماز شروع ہوچکی ہو تو سنت پڑھنا درست نہیں)
"واذا خاف فوت رکعتی الفجر لاشتغالہ بسنتھا ترکھا لکون الجماعۃ اکمل والا بان رجا اذا ادراک رکعۃ فی ظاہر المذھب لا یترکھا،بل یصلیھا عند باب المسجد ان وجد مکانا والا ترکھا،لان ترک المکروہ مقدم علی فعل السنۃ قولہ عند باب المسجد ای،خارج المسجد کما صرح بہ القھستانی،فان لم یکن علی باب المسجد موضع للصلوۃ یصلیھا فی المسجد خلف ساریۃ من سواری المسجد واشدھا کراھۃ ان یصلیھا مخالطا للصف مخالفا للجماعۃ"الدر المختار مع رد المختار،کتاب الصلوۃ،باب ادراک الفریضۃ ج2،ص،5 ''(وكذا يكره تطوع عند إقامة صلاة مكتوبة) أي إقامة إمام مذهبه ؛ لحديث: «إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة» (إلا سنة فجر إن لم يخف فوت جماعتها) ولو بإدراك تشهدها، فإن خاف تركها أصلاً۔ (قوله: إلا سنة فجر)؛ لما روى الطحاوي وغيره عن ابن مسعود: أنه دخل المسجد وأقيمت الصلاة فصلى ركعتي الفجر في المسجد إلى أسطوانة، وذلك بمحضر حذيفة وأبي موسى، ومثله عن عمر وأبي الدرداء وابن عباس وابن عمر، كما أسنده الحافظ الطحاوي في شرح الآثار، ومثله عن الحسن ومسروق والشعبي شرح المنية. (قوله: ولو بإدراك تشهدها) مشى في هذا على ما اعتمده المصنف والشرنبلالي تبعاً للبحر، لكن ضعفه في النهر، واختار ظاهر المذهب من أنه لا يصلي السنة إلا إذا علم أنه يدرك ركعة، وسيأتي في باب إدراك الفريضة، ح. قلت: وسنذكر هناك تقوية ما اعتمده المصنف عن ابن الهمام وغيره''. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)الطبعة: الثانية ١٣٨٦ هـ = ١٩٦٦ م،دار الفکر بیروت،ج1،ص،377 ''عن هشام بن حسان، عن الحسن قال: «إذا دخلت المسجد والإمام في الصلاة، ولم تكن ركعت ركعتي الفجر، فصلهما ثم ادخل مع الإمام»، قال هشام: «وكان ابن عمر، والنخعي يدخلان مع الإمام ولا يركعان حينئذٍ»''۔ المصنف، عبد الرزاق الصنعاني،الطبعة: الثانية، ١٤٠٣ هـ - ١٩٨٣، المجلس العلمي- الهند، توزيع المكتب الإسلامي،بیروت، ج،2 ص، 437 "بل یصلیھا عند باب المسجد ان وجد مکانا والا ترکھا،لان ترک الکروہ مقدم علی فعل السنۃ،کتاب الصلوۃ،باب ادراک الفریضۃ ج 2،ص 56 فقط واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:الطاف الرحمن اخون، الجواب صحیح مفتی شاکراللہ
1446004