مفتی صاحب!
ایک ساتھی کا آدھا چہرہ جلا ہوا ہے۔۔۔جسکی وجہ سے جلے ہوۓ حصے پر داڑھی نہیں آتی ۔۔اور آدھے چہرے پر داڑھی ہے اور لوگ آدھی داڑھی کو حقارت کی نظر سے دیکھ رہے ہے۔۔۔۔
چہرے کے جس حصے پر داڑھی ہے وہ داڑھی کاٹنا کیسا ہے۔۔۔؟
داڑھی رکھنا واجب اور انسانی فطرت سلیمہ کا تقاضا ہے داڑھی کاٹنا یا منڈوانا حرام اور گناہ کبیرہ ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ، مجوسیوں کی مخالفت کرو۔
صورت مسٸلہ میں صرف اس وجہ سے داڑھی منڈانا کہ چہرہ ایک طرف جلا ہوا ہے یہ کوٸی عذر نہیں ہے جسطرف داڑھی آرہی ہے اسکو رکھا جاۓ اور دوسری طرف کےلیے کوٸی علاج کیا جاۓ ۔
عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: جُزُّوا الشوارب، وأرخوا اللحی، خالِفوا المجوس۔ صحیح مسلم،۱/:۲۲۲،رقم:۲٦۰
کتبہ: مفتی فاروق عبداللہ الجواب صحیح: مفتی شاکراللہ چترالی
1446002