yeylo کی جاز کیش کے ذریعے خریداری پر قرضے کی سہولت کا حکم - دار الافتاء

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

yeylo کی جاز کیش کے ذریعے خریداری پر قرضے کی سہولت کا حکم

فتویٰ نمبر: 2026-041
تاریخِ اشاعت: 15 September 2026
باب: آن لائن شاپنگ و ای کامرس
استفتاء / سوال:
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ: میں Yeylo نامی ایک آن لائن سروس کے متعلق شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں، جو JazzCash کے ذریعے خریداری کے لیے مالی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس طریقۂ کار میں صارف کسی شریک دکاندار سے سامان خریدتا ہے اور Yeylo کے ذریعے اس کی ادائیگی اقساط میں کرتا ہے۔ کمپنی اس سہولت کو قرض پر مبنی پروڈکٹ قرار دیتی ہے اور صارف سے خریداری کی اصل رقم کے علاوہ کل خریداری کی رقم کا 15 فیصد بطور سروس فیس وصول کرتی ہے۔ مثلاً اگر سامان کی اصل قیمت 5,000 روپے ہو تو 750 روپے سروس فیس شامل کرکے صارف کے ذمہ مجموعی طور پر 5,750 روپے لازم ہوتے ہیں، جو مقررہ اقساط میں ادا کیے جاتے ہیں۔
اسی طرح اگر صارف مقررہ وقت پر قسط ادا نہ کرے تو واجب الادا قسط کی اصل رقم پر 10 فیصد بطور تاخیر فیس مزید وصول کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات Yeylo کی طرف سے 50 فیصد کیش بیک کی پیشکش بھی کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں صارف کو ادا کی گئی رقم کا ایک حصہ واپس مل جاتا ہے اور بعض صورتوں میں کیش بیک کے بعد سامان کی حقیقی لاگت اس کی اصل قیمت سے بھی کم رہ جاتی ہے۔
مذکورہ صورت میں شرعاً Yeylo کے ذریعے خریداری کرنا اور اقساط میں ادائیگی کرنا جائز ہے یا نہیں؟ نیز خریداری کی رقم پر 15 فیصد سروس فیس، تاخیر کی صورت میں 10 فیصد اضافی فیس اور کمپنی کی طرف سے ملنے والے کیش بیک کا شرعی حکم کیا ہے؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب وبالله التوفيق
صورتِ مسئولہ میں اگر Yeylo کا معاملہ حقیقتاً قرض فراہم کرنے کا ہے، یعنی کمپنی صارف کی طرف سے خریداری کی رقم ادا کرکے اسے قرض دیتی ہے، اور پھر صارف سے اصل قرض کی رقم سے زائد رقم وصول کرتی ہے، تو یہ معاملہ شرعاً قرض پر مشروط نفع ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے اور تاخیر کی صورت میں 10 فیصد اضافی فیس وصول کرنا، اور اسی سودی معاملے کے تحت ملنے والے کیش بیک سے فائدہ اٹھانا بھی شرعاً جائز نہیں۔

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
"(قوله: كل قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر وعن الخلاصة. وفي الذخيرة: وإن لم يكن النفع مشروطًا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به، ويأتي تمامه."
(رد المحتار ، باب المرابحۃ والتولیہ،مطلب کل قرض جر نفعاً حرام،ج:5 ص:166 ط: سعید)

"‌الديون ‌تقضى بأمثالها فيجب للمديون على صاحب الدين مثل ما لصاحب الدين عليه."
(کتاب الاقرار،فصل فی بیان الاقرار بالنسب،ج:8،ص:401،ط:دارالفکر)

والحاصل أن المذهب عدم التعزیر بأخذ المال .... لا یجوز لأحد من المسلمین أخذ مال أحد بغیر سبب شرعي".
 (ابن عابدین ،حاشية رد المحتار على الدر المختار شرح تنوير الأبصار الناشر دار الفكر للطباعة والنشر.،1421هـ - 2000م.بيروت.باب التعزیر، مطلب في التعزیر بأخذ المال ج۶؍ص۱۰۶)
واللہ اعلم باالصواب
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی توقیر احمد صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء