بینک میں پیسے ٹرانسفر کرنے پر کٹوتی کا حکم |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

بینک میں پیسے ٹرانسفر کرنے پر کٹوتی کا حکم

فتویٰ نمبر: 2026-033
تاریخِ اشاعت: 11 September 2026
باب: بینکاری، انشورنس و ڈیجیٹل کرنسی
استفتاء / سوال:
بینک کے پیسے دوسرے بینک سے سینڈ کرواؤ تو 35 یا 40 کٹوٹی کرتے ہیں پیسے سے پیسے کمائیں گے وہ یہ سود ہے یا درست ہے؟
الجواب وباللّٰہ التوفیق

بینک رقم بھیجنے پر جو کٹوتی کرتا ہے وہ بطور اس خدمت کے اجرت کے لیتی ہے لہذا یہ سود میں نہیں آئے گا

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
وفی الدلال والسمسار یجب أجر المثل، وما تواضعوا علیہ أن فی کل عشرة دنانیر کذا فذاک حرام علیہم. وفی الحاوی: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنہ لا بأس بہ وإن کان فی الأصل فاسدا لکثرة التعامل وکثیر من ہذا غیر جائز، فجوزوہ لحاجة الناس إلیہ کدخول الحمام .(شامی کتاب الإجارة ۹/۸۷زکریا)
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی ارمغان صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی محمد علی چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء