وقف کرنے کے بعد فروخت کرنا |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

وقف کرنے کے بعد فروخت کرنا

فتویٰ نمبر: 2026-013
تاریخِ اشاعت: 03 September 2026
باب: اوقاف و مدارس کے مسائل
استفتاء / سوال:
سوال یہ ہے میرا ماموں نے دو سال پہلے اپنا ذاتی زمین قبرستان کے لئے وقف کیا تھا اب وہ اس زمین کو فروخت کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے شرعا یہ جائز ہے۔جواب ارجنٹ ضرورت ہے۔
الجواب وباللّٰہ التوفیق

واضح رہے کہ جب کوئی زمین قبرستان کے لئے وقف کی جائے تو وقف تام ہونے کے بعد موقوفہ جائیداد میں واقف یا کسی اور آدمی کو مصرف وقف کے علاوہ کسی تصرف کا حق حاصل نہیں
لہذا صورت مسؤلہ میں اگر مذکورہ پلاٹ آپ کے مامو نے باقاعدہ طور پر قبرستان کے لئے وقف کیا ہے اب وہ وقف تام ہوچکا ہے تو از روئے شریعت اس کی خرید و فروخت جائز نہیں

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
"واذا صح الوقف،لم یجز بیعہ،ولا تملیکہ۔ الھدایۃ،کتاب الوقف،ج2 ،ص619 رد المحتار میں ہے کہ"فاذا تم و لزم لا یملک ولا یملک،ولا یعار،ولا یرھن، قال ابن عابدین:قولہ(لا یملک)ای لا یکون مملوکا کا لصاحبہ،(ولا یملک)ای یقبل التملیک لغیرہ بالبیع و نحوہ۔رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الوقف،مطلب فرق ابو یوسف بین قولہ"موقوفۃ"ج6،ص،539
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی الطاف الرحمن صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی محمد علی چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء