نفقہ سے زیادہ مطالبہ کرنا |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

نفقہ سے زیادہ مطالبہ کرنا

فتویٰ نمبر: 2026-008
تاریخِ اشاعت: 02 September 2026
باب: حقوق الزوجین و نان نفقہ
استفتاء / سوال:
میرا شوہر سعودی عرب میں کام کرتا ہے وہاں سے مجھے بطور نفقہ ماہانہ خرچہ بھیج دیتا ہے۔شروع شروع میں جس رقم پر ہمارا اتفاق ہوا تھا وہ میرے لئے کافی تھی اب مہنگائی اور دیگر بڑھتی ضروریات کی وجہ سے وہ رقم کم پڑ رہی ہے تو اب سوال یہ ہے کہ میں اپنے نفقہ کے بارے میں اپنے شوہر سے مقرر شدہ سے زائد کا مطالبہ کرسکتی ہوں شریعت کی روشنی میں وضاحت کریں شکریہ
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب حامدا و مصلیا
واضح رہے کہ عورت کا نفقہ بقدر کفایت شوہر پر واجب ہے،یہ نفقہ رقم کی صورت میں شریعت نے متعین نہیں کیا ہے البتہ اگر زوجین باہمی رضا مندی سے کوئی مقدار مقرر کر لیں تو شوہر کے ذمہ وہی لازم ہوگا۔لہذا صورت مسئولہ میں ضروریات اور بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے اگر مقررہ رقم ناکافی ہوجائے تو آپ کو اس میں اضافے کا مطالبہ کرنے کی ازروئے شریعت اجازت ہے۔

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
ولا تقدر بدراھم ودنانیر ای:لا تقدر بشییء معین بحیث لا تزید ولا تنقص فی کل مکان وزمان۔وانما علی القاضی فی زماننا اعتبار الکفایۃ بالمعروف"رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الطلاق،باب النفقۃ،ج5،ص 297 "وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس." فتاوی شامی،کتاب الطلاق، باب النفقات، ج:3، ص:572
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی الطاف الرحمن صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء