قبرستان میں مسجد کی تعمیر |

دار الافتاء والارشاد

قسم الافتاء و التخصص فی الفقہ الاسلامی

قبرستان میں مسجد کی تعمیر

فتویٰ نمبر: 2026-007
تاریخِ اشاعت: 02 September 2026
باب: اوقاف و مدارس کے مسائل
استفتاء / سوال:
: السلام علیکم ۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے حوالے سے۔ پرانے قبرستان میں مسجد تعمیر کرنا جائز ھے یا نھیں ۔ دو صورتیں ھی ۔1 قبرستان کو مسمار کرکے۔ 2 قبرستان کے اردگرد سیمنٹ کے پیلر کھڑی کرکے اس کے اوپر تعمیر کرنا۔ وضاحت فرما کر ممنون ھو۔
مستفتی کرم الہی چترال موڑکہو۔
الجواب وباللّٰہ التوفیق

الجواب حامدا و مصلیا
واضح رہے کہ جو زمین قبرستان کے لئے واقف نے وقف کی ہے،اس کو دفن کے کام میں ہی لانا چاہیے، اگر یہ زمین مملوکہ ہے قبرستان کے وقف نہیں ہے اور قبروں کے آثار مٹ چکے تو اس پر مالکوں کی اجازت سے مسجد تعمیر کرنے کی دونوں صورتیں جائز ہیں۔
فقط واللہ اعلم بالصواب

📖 فقہی عبارات و نصوصِ حوالہ:
"قال الحافظ رحمہ اللہ تعالی،فان قلت:ھل یجوز ان تبنی علی قبور المسلمین؟قلت:قال ابن القاسم رحمہ اللہ تعالی:لو ان مقبرہ من مقابر المسلمین عفت،فبنی قوم علیھا مسجدا،لم ار بذالک باسا،وذلک،لان المقابر وقف من اوقاف المسلمین لدفن موتاھم،لا یجوز لاحد ان یملکھا،فاذا درست واستغنی عن الدفن فیھا،جاز صرفھا الی المسجد،لان المسجد ایضا وقف من اوقاف المسلمین،لا یجوز تملکہ لاحد،فمعناھما علی ھذا واحدا" عمدۃ القاری،کتاب الصلوۃ،ج4،ص،265،دار الکتب رد المحتار میں ہے کہ "اذا بلی المیت،وصار ترابا،جاز الزرع،والبناء علیہ"رد المحتار،کتاب الصلوۃ،مطلب فی دفن المیت،ج2،ص،234
مجیب / کاتبِ فتویٰ:
مفتی الطاف الرحمن صاحب
دار الافتاء
الجواب صحیح / تصدیق کنندہ:
مفتی شاکر اللہ چترالی صاحب
مفتی دار الافتاء