السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
جناب مفتی صاحب!
مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں رہنمائی درکار ہے۔
سوال:
گائے کا دودھ بھینس یا بکری وغیرہ کے دودھ کے بدلے دے سکتے ہیں یا نہیں ؟
الجواب حامدا و مصلیا
صورتِ مسئولہ میں چونکہ گائے اور بھینس دونوں ایک جنس سے ہیں، لہذا اگر گائے کا دودھ بھینس کے دودھ کے بدلے میں دیا جائے تو اس میں برابری لازم ہے تفاضل جائز نہیں ہوگا، البتہ بکری کے دودھ کے بدلے گائے کا دودھ دیا جائے تو برابری ضروری نہیں کمی زیادتی جائز ہے؛ کیونکہ گائے اور بکری کی جنس الگ الگ ہے۔
المحیط البرھانی ، کتاب البیوع ، الفصل السادس ، ۶/۳۵۹ ، ط: دارالکتب العلمیۃ بیروت واللحوم معتبر بأصولها، فالبقر والجواميس جنس واحد لا يجوز بيع أحدهما بالآخر متفاضلاً، وكذلك الغنم جنس واحد ضأنها ومعزها. وزاد في «المنتقى» : والضأن والمعز جنس واحد في اللبن واللحم، ولو باع لحم الغنم بلحم البقر متفاضلاً يجوز عندنا اعتباراً بالأصول، وكذلك لو باع لبن الغنم بلبن البقر متفاضلاً يجوز، ويعتبر في اللبن الأصول أيضاً كما في اللحم. فتاوی ھندیہ ، کتاب البیوع ، الفصل السادس فی تفسیر الربا ، ۳/۱۲۰ ، ط: دارالفکر بیروت فالبقر والجواميس جنسٌ واحدٌ لا يجوز بيع لحم أحدهما بالآخر متفاضلا والإبل جنسٌ واحدٌ عرابها وبختها وكذلك الغنم جنسٌ واحدٌ ضأنها ومعزها كذا في الذخيرة
نوید حیات ربانی تاریخ :۴/۵/۱۴۴۶
مفتی شاکراللہ مدظلہ
14460029